وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6396ویں روز بھی جاری رہا۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے صغیر احمد اور اقرار بلوچ سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
صغیر احمد کے ہمشیرہ کے مطابق، ان کے بھائی صغیر احمد اور کزن اقرار کو 11 جون 2025 کو اورماڑہ چیک پوسٹ سے فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ جس کوچ سے انہیں حراست میں لیا گیا، اس کے ڈرائیور، صغیر اور اقرار کے دوست اور دیگر مسافروں نے گمشدگی کے حوالے سے جبری گمشدگیوں سے متعلق تحقیقاتی ادارے (GIT) میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے، لیکن اس کے باوجود دونوں تاحال بازیاب نہیں ہوئے۔
اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا کہ صغیر احمد اور اقرار کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں کی بازیابی نہ ہونے کی صورت میں خاندان کے ہمراہ احتجاج کیا جائے گا۔
وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ صغیر احمد اور اقرار بلوچ سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔