یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ اُن کا ملک جنگ کے خاتمے کے لیے ولادیمیر پوتن سے ’کسی بھی فارمیٹ‘ میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اُنھوں نے عندیہ دیا کہ روس کے زیرِ قبضہ کرائمیا اور باغیوں کے زیرِ قبضہ صوبے دونیسک اور لوہانسک کی حیثیت پر بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔
تاہم اُنھوں نے کہا کہ کسی بھی امن معاہدے کو یوکرین میں ریفرینڈم کے لیے ضرور پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ زیلینسکی نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ ولادیمیر پوتن سے ملنا چاہتے ہیں کیونکہ اُن کے مطابق ’میرا ماننا ہے کہ اس میٹنگ کے بغیر یہ جاننا ناممکن ہے کہ وہ جنگ روکنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔‘
دوسری جانب یوکرین نے روس کی جانب سے ساحلی شہر ماریوپل میں ہتھیار ڈالنے کے بدلے شہریوں کو نکالنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
روس نے یوکرین کے ساحلی شہر ماریوپل کا محاصرہ کر رکھا ہے جہاں اب لوگوں تک اشیائے ضرورت اور دوائیاں تک بھی نہیں پہنچ رہی ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو پھر اس شہر میں لاکھوں لوگ پھنس کر رہ جائیں۔
روسی نے تجویز دی تھی کہ اگر یوکرین کے فوجی ہتھیار پھینک دیں تو ایسی صورت میں عام شہریوں کو شہر سے نکلنے کی اجازت دی جائے گی۔ مگر یوکرین نے یہ کہتے ہوئے اس پیشکش کو رد کر دیا کہ وہ اپنے اس اہم ساحلی شہر سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو گا۔
یہ شہر اس وقت محاصرے میں ہے جہاں تقریباً تین لاکھ افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ اس شہر میں پھنس کر رہ جائیں گے کیونکہ جنگ کی وجہ سے یہاں موجود اشیا کی رسد ختم ہو رہی ہے اور اس شہر میں امداد آنے سے روک دی گئی ہے۔
اس شہر پر کئی ہفتوں سے روس بمباری کر رہا ہے جس کی وجہ سے یہاں نہ بجلی ہے اور نہ نلکوں میں پانی آ رہا ہے۔
روس نے اتوار کے روز اپنی تجویز پیش کی تھی، جس میں یوکرین کو پیر کی شام تک ان شرائط کو تسلیم کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا۔
اس منصوبے کے تحت روسی فوجی دستے شہریوں کو محفوظ راستہ دینا تھا اور ابتدائی طور پر یوکرین کے فوجیوں اور غیرملکی جنگجوؤں کو کہا گیا تھا کہ وہ اسلحہ چھوڑ کر شہر سے نکل جائیں۔
پیشکش کے دو گھنٹوں کے بعد روسی فوجیوں نے کہا کہ وہ شہر کو آنے والی سڑکوں کو ہر طرح کے بارود سے پاک کر کے شہر میں تمام انسانی امداد اور دوائیوں کی کھیپ کو آنے کی اجازت دے دیں گے۔
تاہم اطلاعات کے مطابق یوکرین نے سرینڈر کرنے کے آپشن کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔
ایک روسی جنرل نے یہ تسلیم کیا ہے کہ یہ شہر تباہی کے دہانے پر ہے۔