کوئٹہ: بلوچ لاپتہ افراد کا احتجاجی کیمپ کو 4618 دن ہوگئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد اور شہدا کے احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے 4618 دن مکمل ہوگئے۔

مستونگ سے سیاسی و سماجی کارکنان عبد النبی بلوچ، عبد الحق بلوچ اور دیگر نے کیمپ آ کر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان پر قبضے سے لے کر آج تک یہ ریاست بلوچوں کی آواز دبانے کے لیے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب رہا ہے، بلوچ سیاسی کارکنوں، طلباء، صحافیوں اور سول سوسائٹی پر ہونے والے مظالم کے بارے میں اقوام متحدہ کے یونیورسل پیروڈک رویو آف پاکستان کو صلاح دی تھی کہ وہ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر حملوں کے واقعات کی سر کوبی یقینی بنانے، وی بی ایم پی کا بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار اور ان کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کر نے کا تہیہ ایک انتہائی مثبت اور نیک شگون قدم ہے، دنیا کے کسی بھی کونے میں اگر کسی قوم کی امن سلب کی جاتی ہے تو وہ صرف اس قوم کے لیے خطرہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے آمن کے لیے خطرہ ہے ہم تب تک محفوظ نہیں رہ سکتے جب تک پوری دنیا میں موجود ہر قوم کو یہ حق برابری کے ساتھ حاصل نہیں ہوتا اس لیے یہ تمام مذہب اقوام کی زمہ داری ہے وہ نا صرف اس طرح کے واقعات کی مزمت کریں بلکہ ان کے روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کریں دنیا میں وسیع تر امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ دنیا کے تمام مذہب اقوام سے اپیل کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ بھی بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے روک تھام میں اپنا فرض ادا کریں گے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی جارحانہ فورسز کی وحشت ہے کہ بلوچ جیسی امن پسند اور انسانیت دوست قوم کی آواز کو دبائے رکھنا آج کی دنیا میں رائج جنگی قوانین کے مطابق واقعتاً بلوچوں نے کوئی مجرمانہ فعل کیا ہے؟دنیا میں انہے سنتے ہیں جو تشدد کا جواب میں تشدد کا راستہ اختیار کر تے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment