روس کا یوکرین میں ہائپر سونک میزائل استعمال کرنے کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

روس نے یوکرینی جنگ میں اپنا جدید ترین کینژال ہائپر سونک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ میزائل آواز کی رفتار سے بھی دس گنا تیزی سے سفر کرتے ہوئے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور کوئی دفاعی نظام اسے روک نہیں سکتا۔

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کینژال ہائپر سونک میزائلوں کے ذریعے یوکرین میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

روس نے آج تک کسی بھی جنگ میں ان جدید ترین اور ہدف کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنانے والے ہائپر سونک میزائلوں کو استعمال نہیں کیا۔

اس حوالے سے ہفتے کے روز روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے کہا، ”ہائپر سونک میزائلوں سے لیس کینژال ایوی ایشن میزائل سسٹم نے ڈیلیاٹن ایوانو فرانکیوسک کے علاقے میں بہت بڑے زیر زمین ویئر ہاؤس کو تباہ کیا جہاں یوکرینی افواج کے میزائل اور دیگر ایوی ایشن ہتھیار موجود تھے۔“

سن 2018 کے سٹیٹ آف دی نیشن خطاب میں روسی صدر پوٹن نے دیگر کئی جدید ہتھیاروں کے ساتھ کینژال میزائل بھی سامنے لائے تھے۔ صدر پوٹن نے ان میزائلوں کو ‘آئیڈیئل ہتھیار‘ قرار دیا تھا۔

یہ ہائپر سونک میزائل آواز کی رفتار سے دس گنا تیزی سے تقریبا دو ہزار کلو میٹر تک کی دوری پر مار کر سکتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت تک موجود کوئی بھی دفاعی نظام ان میزائلوں کو روک نہیں سکتا۔

روس نے جس ہدف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے وہ ایوانو فرانکیوسک شہر کے قریب واقع ہے۔ یہ علاقہ نیٹو کے رکن ملک رومانیہ کے قریب ہے جس کے ساتھ اس کی 50 کلومیٹر طویل سرحد ملتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment