بلوچستان لبریشن فرنٹ نے فروری کے مہینے کی کاروائیوں کی رپورٹ جاری کر دی

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ کی مسلح کارروائیوں کی رپورٹ آشوب میڈیا شائع کرتا ہے جو کہ بی ایل ایف کے ترجمان میجر گھرام کے الیکڑونک اور پرنٹ میڈیا کو جاری کیے گئے بیانات پر مبنی ہیں۔

فروری2022 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ نے پاکستانی فورسز  و ڈیتھ اسکواڈ پر13 حملے کیے،ان حملوں میں فورسز کے24 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ ایک ڈیتھ اسکواڈ کا کارندہ ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ان حملوں میں ایک اسنائپر حملہ،تین دستی بم حملے،ایک بارودی سرنگ جبکہ ڈیتھ اسکواڈ  پر دو حملے شامل ہیں۔ضلع کیچ میں سرمچاروں نے یوفون ٹاور کو بھی اسی ماہ  نذر آتش کیا۔

مادریں وطن کی دفاع میں سرمچار لیفٹینٹ سمیر عرف نصیب ولد جان محمد سکنہ شاپک ڈنڈال  نے بالگتر لوپ میں دشمن فوج کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کی۔

ماہ فروری2022 کی تفصیلی رپورٹ

4 فروری

شہید سیکنڈ لیفٹینٹ سمیربلوچ کو انکی شہادت پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، بی ایل ایف

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے شہید لیفٹینٹ سمیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ چار فروری کو پنجگور کے علاقے بالگتر لوپ میں سرمچار معمول کی گشت پر تھے کہ ان کا سامنا پاکستانی فوج اور مقامی ڈیتھ اسکواڈ سے ہوا۔ دو گھنٹے کی طویل جھڑپ میں سرمچار سیکنڈ لیفٹینٹ سمیر عرف نصیب ولد جان محمد سکنہ شاپک ڈنڈال نے بہادری سے دشمن فورسز کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کی اور  اپنے ساتھیوں کو محفوظ راستہ دیا۔ اس جھڑپ میں دشمن فوج کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

 لیفٹینٹ سمیر 2013 سے تنظیم سے منسلک تھا۔ اپنی جنگی قابلیت سے وہ لیفٹینٹ کے عہدئے پر فائز ہوئے۔ شہید سمیر بلوچ انتہائی قابل اور گوریلا جنگ کے ماہر ساتھی تھے۔ انہوں نے دشمن فورسز کو کئی محاذوں میں دیدہ دلیری کے ساتھ شکست سے دوچار کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس دوران الطاف ولد جاڑو کو پاکستانی فوج نے اس سے ایک دن پہلے تجابان میں حراست بعد قتل کر کے ان کو سرمچار ظاہر کیا تھا۔

6 فروری

بلوچستان لبریشن فرنٹ نے ضلع کیچ میں یو فون ٹاور کو نذر آتش کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

بی ایل ایف کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا میں جاری بیان میں کہا کہ ضلع کیچ کے علاقے گیبن میں سرمچاروں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی یوفون کی ٹاور پر حملہ کرکے ٹاور اور مشینری کو نذر آتش کر دیا ہے۔

8 فروری

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے پاکستانی فوج پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ روز8فروری کوعلی الصبح سات بجے سرمچارکیچ کے علاقے ڈنڈار کے ڈل بازار میں پاکستانی فوج کے قافلے پر حملے کیلئے گھات لگا کر انتظار میں تھے کہ اس دوران دوسری طرف سے دشمن فوج نے سرمچاروں پر حملہ کیا۔ترجمان نے کہا کہ حملے کے بعد ایک طویل جھڑپ شروع ہوئی جو چھ گھنٹے تک جاری رہی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کی مدد کیلئے چار ہیلی کاپٹر جائے وقوعہ پر پہنچے لیکن سرمچاروں نے بہترین جنگی حکمت عملی سے پاکستانی فوج کو پسپا کیا۔ جھڑپ میں پاکستانی فوج کے 8 اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ اس حملے میں ہمیں بلوچ نیشنلسٹ آرمی (بی این اے) کی مدد بھی حاصل تھی۔

09 فروری

جھاؤ میں فورسز پر حملہ اور جھڑپ میں 5اہلکار ہلاک کئے،بی ایل ایف

میجر گہرام بلوچ نے ضلع آواران میں قابض پاکستانی فوج پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہاکہ 9 فروری کو سرمچاروں نے جھاؤ  زیلگ میں فوجی چوکی پر اسنائپر سے حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔

 حملے کے بعد دشمن فوج نے سرمچاروں کا پیچھا کیا تو سرمچاروں نے زیلگ کور(ندی) میں گھات لگاکر قابض فوج پر حملہ کیا۔دو گھنٹے کی جھڑپ میں پاکستانی فوج کے دیگر چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔بھاری جانی نقصان کے بعد قابض فوج کی مدد کیلئے گن شپ ہیلی کاپٹر پہنچ گئے۔دشمن فورسز کو پسپا کرنے کے بعد سرمچار اپنے محفوظ ٹھکانوں پہنچ گئے۔

12 فروری 

آواران میں دشمن فورسز کیساتھ ایک جھڑپ میں 4 اہلکار ہلاک کیے،بی ایل ایف

 ہفتہ بارہ فروری کو پاکستانی فوج نے آواران کے علاقے تیرتیج کے قریب زنڈوئی گواش کے مقام پر سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی جس پر قابض فوج اور سرمچاروں کے درمیان ایک طویل جھڑپ شروع ہوئی۔

جھڑپ میں پاکستانی فوج کے 4 اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے جبکہ سرمچار دشمن کے حملے کو پسپا کرکے بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوئے۔پاکستانی فوج کو جنگی ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل تھی۔

 جھڑپ کے بعد ایک اور مقام پر قابض فوج نے سرمچاروں کو گھیرنے اور حملے کی کوشش کی لیکن وہ دشمن اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

18  فروری

جمعہ کی شام سات بجکر چالیس منٹ پر گوادر چِب ریکانی میں قائم پاکستان آرمی کے کیمپ کے مین گیٹ کے سامنے سیکیورٹی کیلئے کھڑے اہلکاروں پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس سے ایک اہلکار ہلاک ہوا۔

 ⁌تربت میں فوجی چوکی پر دستی بم حملے میں ایک اہلکار ہلاک ہوا،بی ایل ایف

 کل رات نو بج کر بیس منٹ پر تربت شہر میں پاکستان فوج کی آپسر ابدروک چوکی پر سرمچاروں نے دستی بم سے حملہ کیا۔ دستی بم حملے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

19 فروری

ہفتہ کی شام سرمچاروں نے پنجگور چتکان میں فوجی ہیڈ کوارٹر کے مورچہ پر دستی بم پھینکا جو مورچہ کے اندر گر کر پھٹ گیا جس سے ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

23 فروری

کیچ:   بدھ کے روز قابض فورسز کے مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے ضلع کیچ  کے علاقے تجابان کرکی میں زرباری، زونگ دپ کے مقام پر گزشتہ شام سرمچاروں پر حملہ کیا۔ سرمچاروں نے بہترین گوریلہ جنگی حکمت عملی اپناتے ہوئے ریاستی فورسز کے کارندوں کے حملے کو پسپا کیا۔ اس دوران ڈیتھ اسکواڈ کا ایک کارندے ہ پلان ولد مکسد ہلاک اور اس کا ایک ساتھی زخمی ہوا ہے۔

اس کے بعد پاکستانی فوج  ایمبولینس کے ساتھ اپنے ڈیتھ اسکواڈ کی مدد کو پہنچی اور ہلاک و زخمیوں کو ساتھ لے گئی۔ ایسے تمام عناصر جو قابض ریاست کا ساتھ دے رہے ہیں، ہمارے نشانے پر ہیں۔

24 فروری

جمعرات کو سرمچاروں نے ضلع کیچ کے علاقے بالگتر آسانک میں قائم قابض فوج کی چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس سے ایک فوجی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

28فروری

 پیر28 فروری کی رات نو بجے سرمچاروں نے پنجگور کے علاقے چتکان میں قائم آرمی ہیڈ کوارٹر کے مورچے پر دستی بم سے حملہ کیا۔ دستی بم مورچے کے اندر گرا جس سے مورچے میں موجود ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

⁌آواران کی تحصیل جھاؤ کے علاقے چنال گزی میں سرمچاروں نے28 فروری کی شام پاکستانی فوج کو بارودی سرنگ سے نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے فوجی چوکی میں بارودی سرنگ نصب کیا جو انہوں نے ایک حملے کے بعد خالی کیا تھا، شام کوفوجیوں کی آمد کی اطلاع پر سرمچاروں نے چوکی میں بارودی سرنگ نصب کیا۔ فوجیوں کے داخل ہوتے بارودی سرنگ پھٹ گیا جس سے دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔  

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment