ایک مہربان ہمسفر – تحریر: محمد یوسف بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read
                

جب ہم تاریخ عالم میں انقلابی نظریات اور اس سے پنینے والی سوچ کا جائزہ لیتے ہیں تو ہماری نظروں سے ایسے کئی نامور شخصیات سے گزر جاتے ہیں جنہوں نے اپنے کردار و عمل سے لازوال داستانیں رقم کیں جن کے باعث تاریخ انہیں فخریہ انداز میں یاد کرتا ہے۔ عظیم ہستیوں کی فہرست میں اگر سنگت رحمدل عرف نیتا جان کا نام شامل نہ ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ تاریخ پہ ظلم کے مترادف ہوگا۔میں قارئین سے التماس کرنا چاہوں گا کہ ممکن ہے میرے الفاظ میں وہ مہک نہ ہوں جو ایک عظیم دوست کے کردار سے مطابقت رکھتے ہوں لہذا میری کم مائیگی کو نظرانداز کریں کیوں کہ میں کوئی پیشہ ور لکھاری نہیں اور نہ ہی کوئی دانشور۔فقط ایک عظیم و مہربان دوست کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے قلم کو جنبش دی جنہیں میں سفر انقلاب میں ہر موقع پہ نہ صرف ثابت قدم پایا بلکہ اس کے کردار میں عظمت کا نشان پایا۔شہید رحمدل کے اسی کردار نے مجھے آج کاغذ پہ چند الفاظ نوشتہ کرنے پہ مجبور کیا۔

رحمدل کون تھا کیسے اور کب کیوں مجھے اس عظیم انسان کی دوستی کی سعاوت نصیب ہوا۔ غالباًیہ 2013ء کی بات ہے جب میں کیچ شاپک میں تنظیمی دورے پرتھا تو میری ملاقات پارٹی کے بعض دیگر دوستوں کے علاوہ شہید رحمدل جان سے بھی ہوا، پہلی ملاقات میں ان کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر میں نے اس کی مہرو وفا اور خلوص کا اندازہ کرلیا تھا اور یہی مہرو وفا جسمانی جدائی تک برقرار رہا۔

پہلی ملاقات کے بعد جیسے ملاقاتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد میں اکثر شاپک، سامی اور گرد ونواع کے علاقوں میں تنظیمی کام کے لیے جایا کرتا تھا اور شاید کوئی ایسا موقع ہو جس میں رحمدل جان ساتھ نہ ہو۔ اس دوران میں نے رحمدل جان کو حصول مقصد میں ہمہ وقت متحرک پایا وہ چاہے یونٹ سازی کا عمل ہو یا کارنر میٹنگز وغیرہ کا انعقاد یا پارٹی کے دیگر پروگرام، ہر حال میں شہید رحمدل کو ایک مستقل مزاج اور ثابت قدم انقلابی پایا جو فقط آگے بڑھنا جانتا تھا۔

سامی سے تعلق رکھنے والا شہید رحمدل جان نے بلوچ نیشنل موومنٹ میں شمولیت شہید غلام محمد بلوچ کے عہد میں کیا آپ شہید غلام محمد بلوچ کے متحرک کردار سے متاثر تھے اور شہید کے اسی کردار کی بدولت آپ نے بلوچ نیشنل موومنٹ میں شمولیت اختیار کیا۔ آپ نے جب بلوچ نیشنل موومنٹ کو شہید غلام محمد بلوچ کی قیادت میں انقلابی بلوچ قومی تحریک میں متحرک اور سر گرم پایا تو آپ بھی اس کارواں میں اپنا حصے کی ذمہ داریاں نبھاتا رہا اور غالباً 2008ء میں آپ نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی جس کے بعد ہمیشہ پارٹی کے منعقدہ پروگراموں میں شرکت کرکے قومی تحر یک کو متحرک کرتا گیا۔

اس پر آشوب دور میں مجھے کئی پارٹی دوستوں سے ملنے کا موقع ملا۔ جن میں شہید رحمدل جیسے ہمسفروں سے بھی ملاقات ہوتا رہا جیسے شہید رزاق گل، شہید امداد جان، شہید لالا منیر اور بہت سارے نام جو آج جسمانی طور پر ہم سے جدا ہوچکے ہیں اور بعض دوست آج بھی مقصد کے حصول میں سرگرم، ان دوستوں کی جہد آزادی کے ساتھ کمیٹمنٹ مثالی رہا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کا کردار بلوچ تحریک آزادی کو معراج پہ پہنچانے کے مترادف ہے۔ رحمدل جان تیری جرات اور ہمت مثالی رہا جہاں ہر کھٹن حالت میں آپ نے ثابت قدمی کا بھر پور مظاہرہ کیا وہ چاہے علاقہ بدری ہو یا بزگی،آپ نے کبھی اف تک نہیں کی اور نہ ہی کسی کی شکایت البتہ آپ عظیم انقلابیوں کی طرح ہمہ وقت جدت کی بات کرتے تھے آپ کا یہ اعتقاد تھا کہ اداروں کو پروان چڑھایا جائے اور اسی میں ہماری بقاء ہے جس کے لیے آپ ہر وقت دوستوں کو قائل کرنے کی کوششوں میں مگن رہتے تھے۔ آپ کو ہمیشہ نیتا کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا اور آپ حقیقتاً ایک نیتا تھے آپ میں وہ تمام خصوصیات موجود تھے جو کسی قوم کے نیتا میں ہوتا ہے۔یہ اسم گرامی آپ کو کس نے دیا میں نہیں جانتا لیکن جس نے بھی آپ کو یہ لقب دیا میں سمجھتا ہو ں کہ انہوں نے نیتا کی صلاحیتوں کو جانچ لیا تھا۔

کون جانتا تھا کہ ہمارا نیتا جان اتنی جلدی ہمیں چھوڑ کر جانے والا ہے اسی لیے جب آپ کی شہادت کی اطلاع ملی تو مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ آپ جسمانی طور پر ہم سے جدا ہوگئے ہو۔جب آپ کی وہ تصویر جس میں آپ لہولہان تھے نظروں کے سامنے سے گزرا تو آنکھیں پر نم ہوئیں اور لبوں سے یہ الفاظ نکلیں کہ نیتا جان آپ کو ابھی جانا نہیں تھا، اس قوم کو آپ کی ضرورت تھی، بلوچ نیشنل موومنٹ کو آپ کی ضرورت تھی، بلوچ قوم کو آپ کی ضرورت تھی۔ دل میں خیال آیا یوسف اب تیری آنکھوں میں آنسو کیوں آپ یوسف نے الیسے مخلص مہروان کئی ہستیوں کو جدا ہوتے دیکھا، اورا آپ نے غلام محمد اور ساتھیوں کے ساتھ آصف جان لالہ حمید جان و مختار جان کی جسدحاکی اپنے ہاتھوں سے گلزمیں کے سپرد کیے اور شہید رزاق گل، شہید آغا عابدشاہ، شہید سفیر جان، شہید ماسٹر ستار، شہید ماسٹر بیت اللہ اور شہید عاطف جان،شہیدحاجی رزاق جان،شہیدجلیل ریکی اور دیگر بعض دوستوں کی مسخ شدہ لاشیں اور بعض دوستوں کی گولیوں سے چھلنی تصویریں دیکھ چکے ہو۔پھر یہ آنکھوں میں یہ سیلاب کیوں ہاں شاید نیتا جان انمول تھا یا ان عظیم دوستوں کی یاد آنے لگی جو آج جسمانی طور پر ہمارے ساتھ نہیں۔

Share This Article
Leave a Comment