بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد اور شہداء کے لواحقین کابھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جو 4612 دن میں داخل ہوچکی ہے۔
سیاسی اور سماجی کارکنان دیدگ بلوچ، ابراہیم بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفود سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہم بلوچستان میں پیدا شدہ مسائل مسائل کو پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں اور ایک مسلسل ایک پر امن جدوجہد کر رہے ہیں، لیکن آئے روز جبر، تشدد جبری گمشدگیوں سے لوگوں کے دلوں میں نفرت کی آگ بھڑک اٹھی ہے، ہر پھینکے والے مسخ شدہ لاش سے نفرت کی چنگاری اٹھتی ہے، ریاستی تحقیقات اور کمیشن محض ڈھونگ ہیں، جہاں قبل از وقت یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز جبری گمشدگیوں میں ملوث نہیں ہیں، جسے بلوچ قوم ایک مضحکہ خیز اور سنگین مزاق سمجھتی ہے متاثرہ لواحقین کا کہنا ہے کہ قاتل بھی وہے اور منصف بھی وہی تو ہم کس در میں انصاف مانگیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر آنے والی حکومت یہ کہتا ہے کہ ریاستی فورسز اور ایجنسیاں جبری گمشدگیوں میں ملوث نہیں ہیں تو وہ جناب یہ بتا دیں کہ سیکورٹی فورسز کے ٹرکوں اور بکتر بند گاڑیوں میں ملبوس اہلکار کون ہیں اور کہاں سے آتے ہیں جو آئے روز لوگوں کو دن دیہاڑے جبری طور پر اٹھا کر لاپتہ کر رہے ہیں۔