روس کا یوکرینی فوجی اڈے پر کروز میزائلوں سے حملہ، 35 افراد ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

روس نے پہلی مرتبہ یورپی یونین کے رکن ملک پولینڈ کی سرحد کے قریب ایک یوکرینی فوجی اڈے کو تیس سے زائد کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ اس حملے میں پینتیس افراد ہلاک جبکہ ایک سو پینتیس زخمی ہو گئے ہیں۔

روس نے مغربی یوکرین میں پولینڈ کے سرحد کے قریب واقع یافوریف ایئر بیس پر اتوار کی صبح فضائی حملے کیے۔ مقامی ذرائع کے مطابق عسکری اڈے پر 30 سے زائد کروز میزائل داغے گئے۔ یافوریف یورپی یونین کے رکن ملک پولینڈ کی سرحد سے صرف پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہ وہی فوجی اڈا ہے، جہاں یوکرینی فوج نیٹو کے ہمراہ مشترکہ جنگی مشقیں کرتی رہی ہے۔ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے لیکن اس حوالے سے معلومات وقفے وقفے سے جاری کی جا رہی ہیں۔

اب تک اکثریتی روسی حملے یوکرین کے وسط اور مشرق کی جانب کیے جاتے رہے ہیں اور یہ پہلا روسی حملہ ہے، جو یوکرین میں مغربی سرحد اور یورپی یونین کے رکن ملک پولینڈ کے قریب کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ابھی تک یورپی یونین اور پولینڈ کا رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

قبل ازیں ماسکو میں ایک سینئر سفارت کار نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوکرین کے لیے فوجی ہتھیاروں کے ذخیروں کو ’روس کے جائز اہداف‘ میں شمار کیا جائے گا۔ یوکرین کے لیے زیادہ تر فوجی امداد کی ترسیل براستہ پولینڈ کی جا رہی ہے۔

روسی افواج یوکرینی فورسز کو گھیرے میں لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ برطانوی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ روسی فورسز جنوب میں ماریوپول اور شمال میں خارکیف کی سمت سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق ابھی تک ان کے تقریبا? 13 سو فوجی مارے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب روس نے مزید فوجی یوکرین روانہ کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس لڑائی میں روس کو شدید جانی نقصان کا سامنا ہے لیکن آزاد ذرائع سے ایسی خبروں کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دریں اثناء واشنگٹن نے کہا کہ وہ جلد از جلد 200 ملین ڈالر مالیت کے اضافی چھوٹے، ٹینک شکن اور طیارہ شکن ہتھیار یوکرین پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یوکرین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کی حکومت جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن وہ سرنڈر کرنے یا پھر ہتھیار ڈالنے کے الٹی میٹم کو قبول نہیں کریں گے۔ اسی دوران فرانس نے کہا ہے کہ صدر پوٹن امن کے قیام کے لیے راضی نظر نہیں آتے جبکہ ماسکو حکومت نے کہا ہے کہ مغرب کی طرف سے یوکرین میں انسانی صورتحال پر تشویش کا مثبت جواب دیا گیا ہے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اشٹولٹن برگ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں یوکرین میں حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ ان کے بقول روسی حملوں میں تیزی کے سبب وہاں مالی نقصان بھی بڑھے گا اور امکان ہے کہ شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا جائے گا۔ اشٹولٹن برگ نے جرمن اخبار ‘ویلٹ ام زونٹاگ‘ سے بات چیت کرتے ہوئے یہ باتیں کیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ایسے روسی دعووں کو بھی مسترد کیا، جن کے مطابق یوکرین میں امریکا کی خفیہ لیبارٹریاں ہیں، جن میں کیمیائی اور بائیو لوجیکل ہتھیاروں پر کام جاری تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے یوکرین کے لیے ‘نو فلائی زون‘ کے مطالبات کو ایک مرتبہ پھر مسترد کر دیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment