کیچ اور ڈھاڈر سے صحافی سمیت 2افراد فورسز ہاتھوں لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے ضلع کیچ اورڈھاڈرسے پاکستانی سیکورٹی فورسز نے 2افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیا ہے جن کی شناخت ایک صحافی اور ایک ضعیف العمر شخص کے طور پر ہوگئی ہے۔

گذشتہ شب فورسز نے کیچ کے علاقے گونکی شہرک سے ایک اسی سالہ ضعیف العمر شخص کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔

لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت امید علی کے نام سے ہوئی ہے۔

بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی صورتحال انتہائی سنگین۔بچے، بوڑھے اور عورتیں وقتاً فوقتاً فورسز کے ہاتھوں جبری گُمشدگی کا شکار بنتے آرہے ہیں۔

دوسری جانب ڈھاڈر غلام فاروق جتوئی نامی ایک صحافی کو سیکورٹی فورسز نے حراست میں لیکر جبری پر لاپتہ کیاہے۔

پریس کلب ڈھاڈر بولان کے ترجمان نے پریس کلب کے ممبر صحافی غلام فاروق جتوئی کی اغوا نما گرفتاری اور فورسز کی جانب سے انکے گھر پر چھاپے، چادر و چار دیواری کی پامالی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈھاڈر پریس کلب بولان کے ممبر صحافی غلام فاروق جتوئی کے گھر پر چھاپے میں صحافی کو مبینہ طور پراغواء کرکے لاپتہ کرنا اداروں کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔

انکا کہنا تھا کہ اگر حقیقت میں مذکورہ صحافی پر کیسز ہیں تو انکو عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ حقائق منظر عام پر ہوں محض کسی الزام یا صحافتی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی پاداش میں ان کو لاپتہ کرنے کی عمل کی ڈھاڈر پریس کلب شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں صحافیوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے مگر صحافی برادری عوامی مسائل علاقائی ایشوز اجاگر کرنے سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونگے۔

انہوں نے بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ صحافی کو فی الفور منظر عام پر لایا جائے بصورت دیگر پریس کلب ڈھاڈر سمیت بلوچستان کے صحافی احتجاج پر مجبور ہونگے اور مذکورہ صحافی کی بازیابی کیلئے راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہونگے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment