کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد و شہدا کےکا بھوک ہڑتالی کیمپ جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری جسے اب تک 4610 دن مکمل ہو گئے۔

کیمپ میں 30 اگست 2021 کو کوئٹہ سے جبری لاپتہ فیاض علی کی بیوی اور دیگر لواحقین بھی بیٹھے رہے۔

لاپتہ افراد لواحقین سے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بلیدہ سے سیاسی سماجی وکارکن حاجی شیر محمد بلوچ، لال خان بلوچ، اور دیگر شامل ہیں جنہوں نے کیمپ آ کر ہمدردی کااظہارکیا۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ آج بلوچستان کے جتنے فرزندوں کو شہید کیا گیا یا جبری طور پر اغوا کرنے والوں میں کوئی اپنے بھی ہوں گے جو شعوری یا لا شعوری طور پر غداری کا مرتکب ہو رہے ہیں اور مخبری کر رہے ہیں، جو اپنے قوم کے ساتھ اور اپنے ان بھائیوں کے ساتھ جو اپنی زندگی اور ضروریات کو پیچھے چھوڑ کر اپنے غلامی کی زنجیروں توڑ کر پر امن جدوجہد کر رہے ہیں ایک بے ضمیر بے شعور بلوچ اگر ہمارے قوم کے اندر بیٹھ کر ہمارے نوجوان فرزندوں کے راستے میں ایک کانٹے کی مانند مانے جانے لگے اور ہر ایک کا فرض ہوتا ہے راستے کو صاف رکھنا اور بے ضمیر اور بے شعور لوگ اپنے قوم اور اپنے ایمان کو بیچنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں سوچتا کہ ہمارا اور آپ کا ایک قومی فرض ہے کہ ہم اپنے قوم کی ہر وہ بے شعور اور بے ضمیر لوگوں کو اپنے پیاروں کے بازیابی کے بارے میں آگاہ کریں جس کے لیے آج انہی بے ضمیر لوگوں کی وجہ سے کتنا مشکل پیش آ رہا ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ متعدد سوالات ایسے ہیں جو اصل قاتلوں کو چھپا کر محض کٹھ پتلیوں کو سامنے لانے کی بھونڈی کوششوں کو بے نقاب کرتے ہیں زمانہ جانتا ہے کہ ڈیتھ اسکواڈ وہی کچھ کر رہا تھا اور کر رہا ہے جو اس سے ان مسلح ریاستی قوتوں نے کروایا جو انجان بنی بیٹھی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ رپورٹ عدالتی کمیشن نے جاری کی ہے اب بتائیں کہ پاکستانی ریاست کا آئین، قانون اور عدل و انصاف کا ایسا کونسا ادارہ یا فورم باقی رہ جاتا ہے جس سے بلوچ قوم خود پر ڈھائے جانے والے مظالم اور ریاستی نسل کشی جرائم کے خلاف بین الاقوامی عدل وانصاف کے اداروں سے مداخلت اور انصاف کے حصول کے رجوع کرکے بغاوت اور غداری کی مرتکب ہو رہی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment