یوکرین میں امریکی فوجی بھیجنا تیسری عالمی جنگ ہوگی،صدر بائیڈن

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

جمعے کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ یوکرین میں فوجی نہیں بھیجے گا۔

انھوں نے کہا‘میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم نیٹو کے ایک ایک انچ کا مکمل نیٹو کی تمام تر طاقت کے ساتھ دفاع کریں گے مگر ہم یوکرین میں روس سے جنگ نہیں کریں گے۔ نیٹو اور روس کے درمیان براہِ راست تصادم تیسری عالمی جنگ ہوگی۔‘

صدر بائیڈن متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ روس کے خلاف براہِ راست لڑائی کے لیے امریکی فوجی بھیجنے پر غور نہیں کیا جا رہا۔

گذشتہ چند روز میں بائیڈن انتظامیہ نے ولادی میر پیوٹن اور ان کے ملک کے خلاف سخت پابندیاں لگائی ہیں۔

جمعے کے روز صدر باءئڈن نے روسی شراب، ہیروں اور مچھلیوں کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے اور پابندیوں کا سامنا کر رہے پیوٹن کے ساتھیوں کا دائرہ بھی وسیع تر کیا ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے جمعہ کو اعلان کیا کہ امریکہ، یورپی یونین اور سات ممالک کا گروپ جی سیون یوکرین پرحملے کیردعمل میں روس کے ساتھ معمول کے تعلقات بھی معطل کردیں گے۔

روس کے لیے ” سب سے زیادہ پسندیدہ قوم” کی تجارتی حیثیت کو منسوخ کرنے سیامریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بہت سی روسی اشیا پر محصولات میں اضافے کا موقع ملے گا، جس سے روس کی معیشت مزید کمزور ہو گی، جس کے بارے میں پہلے ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پیشن گوئی کی ہے کہ روس سال رواں میں گہری کساد بازاری کا شکار ہوجائے گی۔

بائیڈن نے وائٹ ہاوس میں اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ” روس کے لیے امریکہ کے ساتھ کاروبار کرنااور عالمی معیشت کا نصف حصہ بنانے کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا مشکل ہوجائے گا”۔

انھوں نے کہا کہ یہ روسی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہوگا، جو پہلے ہی ہماری پابندیوں سے بری طرح متاثر ہے۔

امریکہ اور دیگر اتحادیوں نے اس سے پہلے دباو ڈالنے کے لیے اس کی برآمدات اور بینکنگ پر پابندیاں عائد کردی تھیں، تاکہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن یوکرین کے خلاف اپنی جنگ ختم کرنے کا اعلان کریں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد یور پ کی سب سے بڑی جنگ ہے۔

اس سے قبل جمعہ کو یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنکسی نے ایک نشریاتی ویڈیو میں کہا تھا کہ ان کی فوج ایک اسٹرٹیجک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ” یہ کہنا ممکن نہیں کہ ہمیں اپنی زمین کو آزاد کرانے میں کتنے دن لگیں گے لیکن یہ کہنا ممکن ہے کہ ہم اسے آزاد کرائیں گے کیونکہ ہم ایک اسٹرٹیجک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔

نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے رومانیہ کے حالیہ دورے میں کہا تھا کہ پوٹن تنازع کے سفارتی حل کے لیے کوئی آمادگی ظاہر نہیں کررہے، جبکہ پوٹن نے جمعہ کو ہیرس کے دعوے کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے ساتھ بات چیت میں مثبت پیش رفت ہوئی اور یہ کہ مذاکرات ” اب تقریباً روز انہ کی بنیاد پر ہورہے ہیں۔

جمعرات کو امریکی حکام نے کہا کہ روس یوکرین کی آبادی کے مراکز کو تباہ کرنے کی حکمت عملی پر کارفرما ہے کیونکہ متحارب فریقوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ” ہم نے شہریوں پرجان بوجھ کر کیے جانے والے حملوں کی بہت قابل بھروسہ رپورٹیں دیکھی ہیں، جو جنیوا کنونشن کے تحت جنگی جرائم کے مترادف ہیں۔ تاہم، انھوں نیروس پر ایسے جرائم کا خاص طور پر الزام عائد نہیں کیا۔

پرائس نے کہا کہ روسی صدر پوٹن کا یوکرین پر فوری قبضہ کرنے کا منصوبہ ناکا م ہوگیا ہے۔ لہذا، وہ ایسی حکمت عملی اختیار کررہے ہیں کہ آبادی کے مراکز کو نشانہ بنا کریوکرین کی عوام کے عزائم کو توڑ سکیں، لیکن وہ ایسا نہیں کرسکیں گے۔

روس نے یوکرین پر حملے میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔

امریکی نائب صدر ہیرس نے اس ہفتے کے آغاز میں پولینڈ میں کہا تھا کہ وہ یوکرین پر روس کے حملے کے بارے میں اقوام متحدہ کی تحقیقات کی حمایت کرتی ہیں جس میں حقوق کی تمام مبینہ خلاف ورزیوں اورجرائم کا جائزہ لیا جائیگا۔ وارسا میں ایک اجلاس سے پہلے بات کرتے ہوئے ہیرس نے کہا تھا کہ ” بالکل تحقیقات ہونی چاہیے”۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ مجھے زیادہ امید نہیں کہ ہم روس اور ولادیمیر کو جوابدہ ٹھہراسکیں۔

انھوں نے کہا کہ دو ادارے ایسے ہیں جو جنگی جرائم پر مقدمہ چلاتے ہیں، ایک بین الااقوامی عدالت انصاف اور دوسرے بین الااقوامی فوجداری عدالت، دونوں ہی کیا کرسکتے ہیں؟ اس حوالے سے ان کی ایک حد ہے۔

Share This Article
Leave a Comment