کوئٹہ: لاپتہ افراد و شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4609 دن مکمل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومے کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے کیمپ کو ٹوٹل 4609 دن مکمل ہوگئے۔

اظہار یکجہتی کرنے والوں میں سیاسی و سماجی کارکنان فیض امیر بلوچ، نوربخش بلوچ اور دیگر شامل تھے جنہوں نے کیمپ آ کر لاپتہ افراد کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ آج ہر بلوچ بچہ ان بہادروں کے نقش قدم پر چلنے کا خواہشمند ہے گو کہ بلوچ پر امن جدوجہد کے نئے دور میں فرزندوں کی لہو سے تاریخ رنگی ہوئی ہے، جو بلوچ قوم کے آنے والے نسلوں کی مستقبل کا تعین کر چکی بلوچ تاریخ بزرگوں فرزندوں خواتین کی بہادری سے بری پڑی ہے اور بلوچ فرزندوں کے لہو سے چمک رہا ہے ہر مہینے میں بلوچ فرزندوں کے لہو سے ایک سنہری تاریخ رقم ہو رہا ہے گزشتہ ماہ بلوچ فرزندوں کے اس قدر شہادتوں نے اس ماہ کو لہو لہان کر دیا ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پاکستانی فورسز کا بلوچ سول آبادیوں پر آپریشن فرزندوں کو جبری طور پر اغوا لاشوں کا سلسلہ برقرار ہے اور فورسز کی کوہلو ڈیرا بگٹی سے لیکر مکران کے آخری علاقہ مند شیراز پر جارحیت کو جاری رکھا ہوا ہے فورسز نے یکے بعد دیگرے کئی حملے کر کے درجنوں فرزندوں کو جبری اغوا کر کے ساتھ لوٹ مار ارو خواتین و بچوں کو حراساں کرنے کے سلسلے کو جاری رکھا ہوا ہے اسی طرح مشکے آواران کے مکین بھی ریاستی ظلم و بربریت کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج بلوچ نسل قومی یکجھتی ارو بحیثیت ایک قوم ایک لڑی میں ضرور آئے گی آج ریاستی فورسز کی بلوچ فرزندوں پر یلغار خواتین و بچوں کو حراساں کرنا ہی کل کے کامیاب پر امن جد و جہد کی ضامن ہے اس نئی نسل کے بلوچ فرزند سراپا احتجاج بن کر پروان چڑھ رہے ہیں قوم کو یکجا ایک مشت کرنے کے لیے جس طرح تنظیمیں انتھک محنت کر رہی ہے اسی طرح ریاستی ظلم و جبر بھی ایک شعور کا کام کر کے غلامی کے خلاف بیداری کا سبب بن رہا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment