امریکی سینیٹ میں یوکرین کیلئے ایک کھرب 50 ارب ڈالر کا امدادی بل منظور

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکی سینیٹ نے حکومت کو یوکرین کے لیے مختص 13 ارب 60 کروڑ ڈالر امداد سمیت ایک کھرب 50 ارب ڈالر فنڈز کے بل کی منظوری دے دی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق 2 ہزار 700 صفحات پر مشتمل بل 31 ووٹ کے مقابلے میں 68 ووٹوں کی واضح اکثریت سے منظور کیا گیا۔

امکان ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن جمعے کی رات کو امریکی فنڈز کی میعاد ختم ہونے سے قبل ہی اس بل پر دستخط کر دیں گے۔

سینیٹ کے رکن چک شومر نے روسی صدر کی جانب سے اپنے پڑوسی ملک کے خلاف بڑے پیمانے پر شروع کیے گئے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’ہم یوکرین کی حمایت کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں کیونکہ وہ ولادیمیر پیوٹن کے خلاف اپنی زندگیوں کے لیے لڑ رہے ہیں‘۔

واضح رہے یوکرین کے لیے بنایا گیا امدادی پیکج مالی سہولیات سمیت دیگر فوجی آلات اور انسانی امداد پر مشتمل ہے۔

حکومت کی جانب سے فنڈنگ پر قانون کی منظوری کے لیے پالیسی کی ترجیحات کے سبب مہینوں سے گفتگو جاری ہے، جس کے بعد بل منظور کرلیا گیا ہے۔

قانون سازوں کی جانب سے روسی افواج کے خلاف جنگ میں یوکرین کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے، ڈیموکریٹ اور ری پبلکنز کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ کو کیف کی مدد لازمی کرنی چاہیے۔

گزشتہ دنوں، امریکی ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے بتایا تھا کہ روس کے خلاف یوکرین کی جنگ کے لیے اعلان کردہ پیکج میں اضافی اقدامات کیے جانے کا امکان ہے تاکہ کیف کو مزید مدد فراہم کی جاسکے اور ماسکو کے حملوں کے بعد دوبارہ انفرا اسٹریچر کی تعمیر کی جاسکے۔

گزشتہ روز بل پر ووٹنگ کے بعد ری پبلکن سینٹرز نے جوبائیڈن انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ یوکرین کے صدر ویلادیمیر زیلنسکی کی درخواست پر انہیں جنگی طیارے بھیجے جائیں۔

جوبائیڈن انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پولینڈ پہلے ہی جنگی طیارے فراہم کر رہا ہے اور ایسیوقت میں امریکا کی جانب سے بھی جنگی طیاروں کی صورت میں تعاون خطرناک تصادم کو جنم دے گا۔

امریکی ایوان میں روسی تیل کی درآمد پر پابندی کا بل بھی منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ عالمی تجارتی تنظیم سمیت روس سے تمام بین الاقوامی تجارت کے پروگرام پر نظر ثانی کی جائے۔

علاوہ ازیں قانون سازی کے تحت یوکرین کے لیے فراہم کی جانے والی امداد اور دیگر فوجی آلات سمیت انسانی امداد کے ساتھ ساتھ انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں کے لیے پیکج بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ قانون سازی پر جوبائیڈن کے دستخط کے بغیر وفاقی اداروں کے لیے حکومتی پروگرام جاری رکھنے کا امکان نہیں ہے۔

Share This Article
Leave a Comment