پاکستان کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کورونا وائرس کے پیش نظر 408 قیدیوں کی ضمانت پر مشروط رہائی کے احکامات جاری کر دیے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ چیف کمشنراسلام آباد، آئی جی پولیس اور ڈی جی اے این ایف کے نامزد کردہ مجاز افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جس کے مطمئن ہونے پر ہی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ جس ملزم کے بارے میں خطرہ ہے کہ وہ باہر نکل کر معاشرے کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، اسے ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ایمرجنسی صورتحال ہے۔امریکہ میں بھی قیدیوں کو رہا کیا جارہا ہے، اور ہم صرف ان ملزمان کو ضمانت دے رہے ہیں جو سزا کے بغیر قید کاٹ رہے ہیں۔ خواتین کو بھی اس صورت حال میں جیل میں رکھنا ٹھیک نہیں۔‘