صدر بائیڈن نے روسی تیل، گیس اور کوئلے کی درآمد پر مکمل پابندی کی تصدیق کر دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مطلب ہے کہ ’امریکی عوام پوتن کی قیادت کو ایک اور زبردست دھچکا پہنچائیں گے۔‘
بائیڈن نے مزید کہا ہم پوتن کی جنگ کو سبسڈی دینے کا حصہ نہیں بنیں گے۔
دوسری جانب برطانیہ کی حکومت 2022 کے آخر تک روسی تیل اور تیل کی مصنوعات کا استعمال بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ دورانیہ منڈیوں، کاروبار اور سپلائی چینز کو روسی درآمدات کو متبادل ذرائع سے تبدیل کرنے کے لیے وقت دے گا۔
اس سے قبل امریکی صدر بائیڈن نے بھی روسی تیل، گیس اور کوئلے کی درآمدات پر مکمل پابندی کا اعلان کیا ہے۔
کئی یورپی ممالک کے مقابلے میں برطانیہ روسی ایندھن پر کم انحصار کرتا ہے۔ لیکن روسی سپلائی اب بھی برطانیہ میں مجموعی درآمدات کا 8 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ کا 18 فیصد ڈیزل روس سے آتا ہے۔
امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ روسی تیل کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ اتحادیوں کے ساتھ ’قریبی مشاورت سے‘ لیا گیا تھا۔
صدر کا کہنا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ اس اقدام کے بعد گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا، لیکن انھوں نے تیل کی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ قیمتوں میں ’ضرورت سے زیادہ‘ اضافہ نہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ میں قیمتوں میں اضافہ ہو گا لیکن ’آزادی کے دفاع‘ کے لیے یہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
بائیڈن کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن ’اپنی قاتلانہ روش پر گامزن رہنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’پوتن کو یوکرین میں کبھی فتح نہیں ملے گی۔‘
دریں اثناامریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ نے امریکی کانگریس کی سماعت کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین میں روسی فوجیوں کی 2000 سے 4000 کے درمیان ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
اگرچہ سکاٹ بیریئر زیادہ پڑاعتماد نظر نہیں آ رہے تھے تاہم انھوں نے انٹیلی جنس اور اوپن سورس رپورٹنگ کی بنیاد پر ہونے والی اموات کا تخمینہ لگاتے ہوئے کہا ’ان کا منصوبہ بہت برا نکلا۔‘
روسی فوجیوں کی ہلاکتوں کی یہ تفصیلات یوکرین کی وزارت دفاع کی طرف کیے گئے دعوے کے بعد سامنے آئی ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مشرقی یوکرین کے شہر خارخیو کے مضافات میں ہونے والی ایک لڑائی میں ایک سینئر روسی فوجی کمانڈر مارا گیا ہے۔