یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ ہم آخری دم تک، جنگلوں، کھیتوں، ساحلوں اورگلیوں میں لڑینگے۔
چرچل کی 1940 کی مشہور تقریر ’ہم ساحلوں پر لڑیں گے‘ کو یاد کرتے ہوئے زیلینسکی نے کہا ’ہم ہار نہیں مانیں گے اور نہ ہی ہاریں گے۔‘
’ہم سمندر میں، ہوا میں آخری دم تک لڑیں گے، ہم اپنی سرزمین کے لیے لڑتے رہیں گے، چاہے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ ہم جنگلوں، کھیتوں، ساحلوں، گلیوں میں لڑیں گے۔‘
زیلینسکی کا کہنا ہے کہ پابندیاں خوش آئند ہیں لیکن یہ کافی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یوکرین پر نو فلائی زون قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے روس کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کے فیصلے نے انھیں امید دلائی کہ اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔ لیکن زیلینسکی کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں 15 سے زیادہ بچے ہلاک ہو چکے ہیں، اور ’یہ وہ بچے ہیں جن کی زندگی بچائی جا سکتی تھی‘
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی ہاؤس آف کامنز میں برطانوی سیاست دانوں سے لائیو ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بڑے ملک کے صدر کے طور پر مخاطب ہیں۔۔۔ ایسا صدر جس کے بہت سے خواب ہیں۔‘
وہ روس کے خلاف یوکرین کی لڑائی کا موازنہ دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف برطانوی جنگی کوششوں سے کر رہے ہیں۔
’جب نازی آپ کے ملک پر قبضہ کرنا چاہتے تھے تو آپ کو برطانیہ کے لیے لڑنا پڑا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ان کے شہریوں نے روسی افواج کے خلاف بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔
’شیلنگ ہمارے حوصلے توڑ نہیں پائی۔‘