بلوچستان میں جعلی ادویات کی بڑھتی کاروبار سے لوگوں کی قیمتی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ بلوچستان میں جعلی ادویات کے ذریعے علاج ومعالجے کی کاروبار عروج پرہے۔
ایک طرف ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ،سرکاری وغیر سرکاری ہسپتالوں میں حد سے زیادہ فیس،ضرورت کے بغیر اپنی کمائی کیلئے ایکسرے اور بے جا ٹیسٹ سے غریب افراد لوٹا جارہا ہے۔تو دوسری طرف جعلی ادویات کوسستے داموں پھیلاکرلوگوں کی قیمتی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ بعض بیماریوں کے جب اصل دوائی میسر نہ ہوتے ہیں تو انہیں جعلی ادویات دیئے جاتے ہیں جس میں ڈاکٹر کا بھی کمیشن شامل ہوتاہے۔
خدمت خلق فاؤنڈیشن کے چیئرمین انٹرنیشنل تمغہ امتیاز نعمت اللہ ظہیر کہنا ہے کہبلوچستان میں سالانہ 7لاکھ سے زیادہ افراد طبی معائنہ کرانے آتے ہیں جبکہ ادویات کی خریداری کے لیے سول اسپتال کے شعبہ فارمیسی کا سالانہ بجٹ 27کروڑ روپے ہے، غیر معیاری ادویات کے مسئلے پر بلوچستان کا حکومت بالکل خاموش ہے۔
انہوں نے جعلی اور مضر صحت ادویات کے کاروبار میں ملوث ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں قصائی ڈاکٹروں اور جعلی ادویات کی روک تھام کیلئے پورے بلوچستان میں قانونی کاروائی ہونی چاہئے،تاکہ عوام اس ظلم اور ظالمانہ رویے سے نجات پائے۔