کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد و شہدا کا بھوک ہڑتالی کیمپ جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو کوئٹہ میں جاری ہے جسے 4604 دن مکمل ہو گئے۔

بھوک ہڑتالی کیمپ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد، فیاض علی، ارشد بنگلزئی،راشد بنگلزئی، آصف بلوچ اور رشید بلوچ کے لواحقین بیٹھے رہے۔

آج کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنے والوں میں سیاسی اور سماجی کارکنان حاجی ظریف خان مندوخیل، بور محمد کاکڑ اور دیگر شال تھے۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے مخاطب ہو کر کہا کہ ظالموں کا ظلم جہاں جہاں انتہا کی حدیں پار کر لیتا ہے، وہاں مظلوم محکوم اور پسے ہوئے طبقے نفرت کرنے لگتے ہیں، پر امن طریقہ جدوجہد کے تمام رستے بند کر دیئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ ظلم کے خلاف فتح و کامرانی ہمیشہ مظلوم اور محکوم کی ہوئی ہے۔آج جدید دنیا کے ہوتے ہوئے بھی مظلوم طبقات ظلم سے نجات حاصل نہیں کرپایا ہے۔ مگر مظلوم اور محکوم کاجہد مسلسل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بھری دنیا میں بلوچ بھی ایک مظلوم قوم ہے، جس کے وطن پر اغیار کا قبضہ ہے، بلوچ مائیں بہنیں اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے جہد مسلسل میں مصروف عمل ہیں۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگیوں پہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور اقوام عالم کو بار بار توجہ مبذول کروایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچستان میں ریاستی جبر اور درندگی کو روکنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment