روسی افواج نے یوکرین کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارخیو پر شدید بمباری کی ہے۔ مگر وہاں شہروں پر کلسٹر بم حملوں کے ایسے شواہد موصول ہوئے ہیں جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ کہتے ہیں کہ یوکرین میں روسی مداخلت کے بعد ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ روس نے وہاں کلسٹر بم دھماکے کیے ہیں۔
انھوں نے بتایا ہے کہ ’ہم نے کلسٹر بموں کا استعمال دیکھا ہے اور ایسے ہتھیار استعمال کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ مغربی فوجی اتحاد یوکرین میں نو فلائی زون نہیں بنائے ہیں اور نہ ہی وہاں فوجی دستے بھیجے گا۔ مگر اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کیؤ کی مدد کرے گا۔
انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس مداخلت کو ختم کیا جائے۔
دوسری جانب یوکرین کے وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ روسی دستوں نے ایک جوہری پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا ہے مگر اسے موجودہ عملہ حفاظت کے ساتھ چلا رہا ہے۔
تاہم انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نیوکلیئر پلانٹ پر روسی شیلنگ ’اصل جوہری دہشتگردی ہے۔‘
’انھوں نے براہ راست سٹیشن پر شیلنگ کی۔ وہ جانتے ہیں کہ انھوں نے کیا کِیا ہے۔‘
یوکرین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایک پاور پلانٹ میں روسی شیلنگ کے بعد آگ لگنے سے کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔
فیس بک پر جاری کیے گئے بیان میں وزارت کا کہنا ہے کہ کئی ملازمین یہ کوشش کر رہے ہیں کہ زیپروزیا شہر کے پلانٹ میں حفاظتی اقدام یقینی بنائے جاسکیں جبکہ فی الحال تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے۔
لیکن اگر جوہری ایندھن کو ٹھنڈا رکھنے کا نظام متاثر ہوتا ہے تو اس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوسکتا ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ ’اس سے ہزاروں لوگ متاثر ہوں گے۔ ان میں وہ شہری شامل ہیں جو شیلنگ اور لڑائی کی وجہ سے نکل نہیں پا رہے۔‘
یوکرینی وزارت خاجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ روسی افواج کو اس علاقے سے نکالا جائے تاکہ حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ زیپروزیا کے جوہری پاور پلانٹ پر روسی حملے سے ’چرنوبل کے چھ گنا تباہی‘ ہو سکتی تھی۔
انھوں نے ٹیلی ویژن پر خطاب میں کہا ’یوکرین کے لوگو! ہم اس رات سے بچ گئے جو یوکرین کی تاریخ، یورپ کی تاریخ کے دھارے کو روک سکتی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ روس کو معلوم تھا کہ براہ راست سٹیشن پر گولہ باری کا کیا مطلب ہے۔ انھوں نے اسے ’دہشت گردی کی ایسی کارروائی‘ قرار دیا جس کے بارے میں اس سے قبل کسی نے سنا تک نہ ہو۔
روسی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا ہم نے 1986 میں چرنوبل کی تباہی کے نتائج کا ایک ساتھ مقابلہ نہیں کیا؟‘
انھوں نے کہا ’سڑکوں پر نکلیں اور اپنی حکومت کو بتائیں کہ آپ جینا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے یوکرین پر نو فلائی زون قائم کرنے اور روس کے خلاف پابندیوں کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
انھوں نے روسی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’تابکاری نہیں جانتی کہ روس کہاں ہے۔ تابکاری کو نہیں پتا کہ آپ کے ملک کی سرحدیں کہاں سے شروع ہوتی ہیں۔‘
یوکرین میں زیپروزیا کے جوہری پاور پلانٹ پر روسی حملے کے بعد بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ:
’راتوں رات ایک پروجیکٹائل پلانٹ کی عمارت سے ٹکرا گیا۔ یہ عمارت ری ایکٹرز کا حصہ نہیں ہے۔ اس سے لگنی والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’پلانٹ کا حفاظتی نظام متاثر نہیں ہوا اور نہ ہی تابکاری مواد کا اخراج ہوا ہے۔‘
نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے یوکرین میں روسی کارروائیوں کی مذمت کی جس میں جوہری پاور پلانٹ پر گولہ باری بھی شامل ہے۔
یورپ کا سب سے بڑا جوہری پلانٹ زیپروزیا اب روس کے کنٹرول میں ہے۔
انھوں نے کہا ’ہم شہریوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور ہم نے راتوں رات جوہری پاور پلانٹ پر حملے کی رپورٹس بھی دیکھی ہیں۔ یہ اس جنگ کے بارے میں لاپرواہی کو ظاہر کرتا ہے‘
’لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جلد از جلد اسے ختم کرنے، روس کے تمام فوجیوں کو واپس بلانے اور سفارتی کوششوں میں نیک نیتی کے ساتھ شامل ہونے کی اہمیت پر زور دیں۔‘