یوکرین: روسی فوج کے حملے سے 40 فوجیوں سمیت 58 افراد ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

یوکرین نے روسی حملے کے پہلے چند گھنٹوں میں 40 یوکرینی فوجیوں کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

یوکرین میں میڈیا کو پریس بریفننگ کے دوران صدارتی دفتر کے ایک اہلکار اولیکسی آریسچوویچ نے روس کی جانب سے فضائی اور میزائل حملوں کو زیادہ ہلاکتوں کی وجہ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جیسا کہ پہلے میں نے بتایا تھا کہ ان کا پہلا حملہ ناکام ہوا ہے۔ عام شہریوں کے نزدیک یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ یقین مانیں انھوں نے اس سے کہیں زیاہ کی توقع کی تھی۔‘

بلکہ ’وہ ہمیں زیادہ نقصان پہنچانے میں ناکام رہے ہیں۔‘

یوکرین کی فوج کے ترجمان نے فیس بک پر دعویٰ کیا ہے کہ روس کی فوج نے ملک کی 30 سے زائد عسکری و سول تنصیبات پر میزائل حملے کیے ہیں۔

یوکرین کی فوج کے ترجمان نے اپنے فیس بک پر اطلاع دیتے ہوئے انگریزی میں لکھا کہ ’جمعرات کو دوپہر ایک بجے تک روس کی فوج نے یوکرین کی عسکری اور سول تنصیبات پر 30 سے زائد کروز میزائل حملے کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق روس کی فوج نے فضائیہ کی مدد سے یوکرینی سرحد پر پیش قدمی جاری رکھے ہوئی ہیں اور اس کی فوج خیرسون، آرمینسک، خیخوا کے علاقوں کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

جنوبی یوکرین کے صوبے اوڈیسا کے ایک مقامی گاؤں پر روسی حملے میں اٹھارہ افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق یوکرین کے صوبے اوڈیسا کی مقامی ایمرجنسی سروسز نے فیس بک پر اس حملے کے متعلق اطلاع دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں آٹھ مرد جبکہ دس خواتین شامل ہیں۔

تاہم مقامی گاؤں میں حملے کے بعد ملبے سے چھ افراد کو نکال لیا گیا ہے اور قریبی مرکزی ہسپتال پنچایا گیا۔ ان میں سے ایک زخمی ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ مقامی ایمرجنسی سروسز ملبے تلے مزید افراد کی تلاش کر رہے ہیں۔

یوکرین کے صدر ولودیمر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کی افواج روسی حملوں کو نہ صرف مشرقی یوکرین میں ڈونباس کے علاقے میں پسپا کر رہی بلکہ دیگر خطوں میں جہاں جہاں حملے ہو رہے ہیں ان سے بھی مقابلہ کر رہی ہیں۔

روسی افواج کا دوسری جانب دعوی ہے کہ ان کے فوجیوں کو زیادہ مزاحمت کا اب تک سامنا کرنا نہیں پڑا۔

یوکرینی فوج نے دعوی کیا ہے کہ وہ اب تک روس کے 50 ’قبضہ کرنے والے‘ افراد کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ انھوں نے روس کے کم از کم چھ طیارے تباہ کر دیے ہیں۔ ان دعوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment