دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن، کورونا وائرس سے 15 ہزار سے زائد اموات

ایڈمن
ایڈمن
10 Min Read

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح اب کورونا وائرس امریکا میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے اور امریکا میں وائرس سے متاثرہ افراد

کی تعداد 38 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اب تک 471 افراد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔

جان ہوپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال کے اختتام پر چین سے جنم لینے والے کورونا وائرس کی دنیا بھر میں تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک وائرس سے 3 لاکھ 43 ہزار افراد متاثر اور 15ہزار 308 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دنیا بھر میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد وائرس سے صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

امریکا وائرس سے متاثرہ تیسرا بڑا ملک
دنیا بھر میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور امریکا، چین اور اٹلیکے بعد وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا تیسرا ملک بن گیا ہے جہاں وائرس سے متاثرین کی تعداد 38 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور اب تک 471 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
نیویارک اور واشنگٹن کی ریاستیں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں جہاں اب تک بالترتیب 99 اور 96 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

اسپین میں 2 ہزار سے زائد اموات
اسپین میں ہر گزرتے دن کے ساتھ موت کے منہ میں جانے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور ملک میں وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
اسپین کی وزارت صحت کے مطابق وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 28ہزار 572 سے بڑھ کر 3ہزار 89 ہو گئی ہے جبکہ نئت تصدقی شدہ کیسز میں سے 12فیصد محکمہ صحت کے رجاکار ہیں۔
گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران اسپین میں 570مریضوں کو انتہائی نگہداشت میں داخل کیا گیا ہے جس سے ملک میں ا?ئی سی یو میں موجود مریضوں کی تعداد 2ہزار 355 ہو گئی ہے۔
اسپین میں مزید 450 سے زائد کے نتیجے میں ملک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 2ہزار 182ہو گئی ہے۔

نائجیریا میں پہلی موت
نائجیریا میں وائرس سے پہلی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ اب تک ملک میں 36افراد وائرس کی زد میں آ چکے ہیں۔
نائجیریا سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے اپنے پیغام میں کہا کہ برطانیہ میں علاج کرا کر وطن واپس لوٹنے والے 67سالہ شخص آج انتقال کر گئے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ نائجیریا میں متاثرہ افراد کی تعداد 36 ہو چکی ہے جبکہ ملک کے متعدد شہروں میں نئے مشتبہ کیسز کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

ترکش ایئرلائن کے بین الاقوامی آپریشنز بند
ادھر ترک ایئرلائن نے پیر سے تقریباً تمام انٹرنیشنل فلائٹس کو بند کردیا ہے اور 17اپریل تک انٹرنیشنل فلائٹ آپریشن بند رہیں گے۔
ترکش ایئرلائن کے مطابق نیویارک، واشنگٹن، ہانک کانگ، ماسکو اور ایڈس ابابا کو استثنی حاصل ہو گا جبکہ کمپنی مقامی سطح پر فلائٹس آپریشن کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

فلپائن میں تین ڈاکٹرز کی موت
فلپائن میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 462 ہو گئی ہے جبکہ ہانک کانگ میں نے اپنے شہریوں کے علاوہ تمام افراد کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔

فلپائن میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے اور کورونا وائرس کا علاج کرنے والے تین ڈاکٹر جان کی بازی ہار گئے۔منیلا کے ہسپتالوں میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے متعدد ڈاکٹرز کی حالت تشویشناک ہے جبکہ بڑی تعداد میں صحت کے رضاکار قرنطینہ میں ہیں۔

برازیل نے کورونا وارئس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ملک کے فٹبال اسٹیڈیمز کو کورونا وائرس کے فیلڈ ہسپتالوں میں تبدیل کردیا ہے۔

ادھر جرمنی میں ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے اور وائرس سے مزید 31 ہلاکتوں کے نتیجے میں ملک میں مرنے والوں کی

تعداد 86ہو گئی ہے۔

جرمنی میں مزید 4ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 22ہزار 672 ہو گئی ہے۔

جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے اور وہ مملکت کے تمام امور کی انجام دہی اپنے گھر سے کریں گی۔
جرمن چانسلر کے ترجمان اسٹیفن سیبرٹ کے مطابق جمعہ کو جس ڈاکتر نے اینجلا مرکل کو ویکسین لگائی تھی ان کا کورونا کا تیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد مرکل نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ جرمنی نے گزشتہ روز دو افراد سے زائد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کردی تھی اور لوگوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے آپس میں ڈیڑھ سے دو میٹر کا فاصلہ رکھیں۔

بھارت کے 80شہروں و اضلاع میں لاک ڈاؤن
دوسری جانب بھارت نے ملک کے 80 سے زائد شہروں و اضلاع میں لاک ڈاؤن کرتے ہوئے ایک کروڑ عوام کو گھروں میں محدود کردیا ہے۔

نئی دہلی سے جاری اعلامیے کے مطابق کورونا وائرس کے پیش نظر 75اضلاع میں صرف ضروری امور کی انجام دہی کی اجازت ہو گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم نریندر مودی ہدایات پر بھارت میں 14گھنٹے کے لیے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کیا گیا تھا جس سے ایک ارب افراد گھروں تک محدود ہو گئے تھے۔

اس 14گھنٹے کے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد لوگوں نے اپنے گھر کی بالکونی اور دروازے پر کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا لیکن وزیر اعظم نریندر موودی نے عوام کو خبردار کیا تھا کہ یہ محض ایک طویل جنگ کا آغاز ہے۔
پیر کو بھارتی وزیر اعظم نے شکوہ کیا کہ عوام لاک ڈاؤن کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے اور انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ ہدایات پر عمل کریں تاکہ خود کو اور اپنے اہلخانہ کو محفوظ رکھ سکیں۔

سعودی عرب میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان
سعودی عرب میں بھی کورونا وائرس کے پیش نظر پیر سے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کردیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے فرمانرواں شاہ سلمان نے 21 دن کے لیے شام 6 بجے سے صبح 7بجے تک کرفیو کے نفاذ کا اعلان کردیا۔
سعودی نے یہ اقدام ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے کیسز کے سبب اٹھایا ہے جہاں اب تک 511افراد وائرس کی زد میں آ چکے ہیں۔

ادھر مونٹی نیگرو میں وائرس سے پہلی ہلاکت رپورٹ ہو گئی ہے۔

اتوار کی رات دارالحکومت پوڈگوریکا کے ہسپتال میں کورونا وائرس کا شکار ایک 65سالہ شخص دم توڑ گیا۔

مقامی نشریاتی اداروں کے مطابق مذکورہ شخص نے حال ہی میں سربیا کا سفر کیا تھا جبکہ ملک میں اب تک 22افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

نیوزی لینڈ میں 48گھنٹوں کا لاک ڈاؤن
نیوزی لینڈ نے ملک بھر میں اگلے 48گھنٹوں کے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسٹن آرڈرن نے کہا ہے کہ اگلے 48گھنٹوں کے لیے ملک بھر میں اسکول، جامعات اور دفاتر بند کر دیے گئے ہیں جبکہ اس دوران سینما، کیفے، ریسٹورنٹ اور بار بھی بند رہیں۔

نیوزی لینڈ میں یہ اقدام ایک ہی دن میں 36مزید کیسز رپورٹ ہونے کے بعد کیا گیا جس کے بعد کیویز کے دیس میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 102 ہو گئی ہے۔

چین میں بیرون ملک سے نئے کیسز رپورٹ
چین میں مقامی سطح پر کورونا وائرس کے کیسز تقفریباً ختم ہو چکے ہیں لیکن اب ملک میں بیرون ملک سے منتقل ہونے والے کیسز تیزی سے رپورٹ ہونا شروع ہو چکے ہیں۔

نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق اتوار کو 39 نئے کیس رپورٹ جبکہ ہفتے کو 46کیس رپورٹ ہوئے تھے۔

بیرون ملک سے منتقل ہونے والے 10 نئے کیسز کے بعد دارالحکومت بیجنگ میں بڑے پیمانے پر اقدامات شروع کردیے گئے ہیں جبکہ تمام بین الاقوامی پروازوں کو چین میں نہ اترنے کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔

کورونا وائرس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا تھا جہاں صرف چین میں وائرس سے تین ہزار سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہوئی تھیں۔

ابتدائی طور پر یہ وائرس صرف چین تک محدود تھا لیکن بعدازاں یہ مشرق وسطیٰ اور یورپ میں انتہائی تیزی سے پھیلنے لگا اور اٹلی میں اب تک سب سے زیادہ 5ہزار 476ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

دنیا بھر میں اب تک وائرس سے 15 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تین لاکھ 49ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment