بلوچستان کے علاقے مستونگ،ماشکیل،دکی اور خضدار میں 4مختلف واقعات میں 2کمسن بچوں سمیت4افراد ہلاک، جبکہ 9 ہوگئے۔
اتوار کی شام مستونگ کے علاقہ تحصیل کردگاپ پتکی میں دو معصوم بہن بھائی 7 سالہ اسرار اپنے 10 سالہ بہن آمنہ بی بی کے ساتھ قریبی میدانی علاقے میں اپنے بھیڑ بکریوں کو چروانے کے لیئے لے گئے تھے کہ دو ملزمان نے ان دونوں بہن بھائی کو گلہ دبا کر قتل کر کے انکے 20 بھیڑ بکریوں کو چرا کر فرار ہو گئے۔
والدین نے اپنے معصوم لاپتہ بچوں کو قریبی علاقوں میں ڈھونڈنے گئے جہاں درندہ صفت ملزمان نے انھیں قتل کرکے مویشی لے گئے تھے۔
اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر مستونگ ریٹائرڈ محمدالیاس کبزئی، اسسٹنٹ کمشنر کردگاپ حبیب الرحمن لونی و دیگر حکام بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ کردگاپ پہنچ کر مستونگ کے تمام داخلی خارجی راستوں پر ناکہ بندی کردی اور اسسٹنٹ کمشنر مستونگ عطاالمنیم بلوچ کو بولان کچھی میں ناکہ بندی کرنے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کی احکامات جاری کرتے ہوئے بھجوا دیا۔جہاں اسسٹنٹ کمشنر مستونگ عطاالمنیم بلوچ معصوم بچوں کے قتل میں ملوث دونوں درندہ صفت قاتلوں کو گرفتار کرلیا اور مال مویشی بھی برآمد کرلئے۔
سفاک قاتلوں نے اعتراف جرم بھی کرلیا جبکہ ڈپٹی کمشنر کے نگرانی میں دونوں معصوم بچوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال پہنچا دی گئی بعد ازاں لاشوں کو لواحقین کے حوالے کردیا۔
دریں اثنابلوچستان ایران کے سرحدی علاقہ ماشکیل میں سی پیک روڈ پرٹریفک حادثے سے ایک شخص ہلاک ہوگیاجبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔
زخمیوں کو طبی امداد کے لئے نوکنڈی آرایچ کیومیں منتقل کردیاگیا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق مرنے والا افغان مہاجر ہے جبکہ زخمیوں میں سے تین مقامی ہیں اور دیگر افغان مہاجرین شامل ہیں۔
اسی طرح دکی کے ایک مقامی کوئلہ کان میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے ایک کانکن ہلاک ہوگیا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق ہلاک کانکن کی شناخت حضرت عثمان ولد محمد ولی سکنہ قلعہ سیف اللہ کے نام سے ہوگئی۔
ہلاک ہونے والے کانکن کی لاش کو سول ہسپتال دکی میں ضروری کاروائی کے بعد ورثا کے حوالے کرکے ابائی علاقے روانہ کردیا گیا۔
علاوہ ازیں خضدارمیں خضدار میونسپل کارپوریشن کے مستقل ملازم چوکیدار جلیل احمد ولد بیگ محمدساکن کھنڈ خضدار نے خود سوزی کی ہے۔
انہیں بے ہوشی کی حالت میں انہیں ایمرجنسی لایا گیا ہے۔
ابتدائی طورپر خود سوزی کی وجوہات سامنے نہ آسکی۔
ایمرجنسی میں طبی امداد دینے کے بعد مزید انہیں علاج ومعالجہ کیلئے کوئٹہ ریفر کردیا گیا ہے۔