حکومت بلوچستان اور میڈیکل کالجز کے طلبا کے درمیان کامیاب مذکرات کے بعد طلبانے بھوک ہڑتال اور دھرنا ختم کردیا۔
کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل رحمان نے طلبائکو وزیراعلیٰ کی جانب سے سیکریٹری صحت کو ارسال کیے جانے والے مراسلے کی کاپی دی اور اسپتال جاکر بھوک ہڑتال کرنے والے پانچ طلباکو جوس پلا کر بھوک ہڑتال ختم کرائی۔
جبکہ طلبانے انسکمب روڈ پر دیا جانے والا دھرنا بھی ختم کر دیا۔
واضع رہے کہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے پاکستان میڈیکل کمیشن کی طرف سے بلوچستان کے تین میڈیکل کالجز کے طالب علموں کی رجسٹریشن کے لیے خصوصی ٹسٹ کی شرط کے خلاف میڈیکل الائنس کمیٹی کے ارکان گذشتہ ایک ہفتے سے زائد تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔
جہاں چار پانچ طالب علموں کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے انھیں ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیاتھا۔
شال پریس کلب کے سامنے جھالاوان میڈیکل کالج خضدار، لورالائی میڈیکل کالج اور مکران میڈیکل کالج کے طلبا اپنا یک نکاتی مطالبہ لے کر تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔
ان کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں آویزاں بینر پر لکھا ہے تھا کہ ”رجسٹر کرویا لاش اٹھاؤ“۔
تینوں میڈیکل کالجز کے طالب علموں نے میڈیکل الائنس کمیٹی کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہے جس کے بینر تلے پانچ طالب علم عدنان بلوچ، ساجد اکبر، سمیع، فارس اور نائید تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔