بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں پاکستان میڈیکل کمیشن کی طرف سے بلوچستان کے تین میڈیکل کالجز کے طالب علموں کی رجسٹریشن کے لیے خصوصی ٹسٹ کی شرط کے خلاف میڈیکل الائنس کمیٹی کے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا ہفتے کے روز دوسرا دن پورا ہوگیا۔رات کو بھوک ہڑتال پر بیٹھے طالب علم عدنان کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے انھیں ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے جایا گیا ہے۔
شال پریس کلب کے سامنے جھالاوان میڈیکل کالج خضدار، لورالائی میڈیکل کالج اور مکران میڈیکل کالج کے طلباء اپنا یک نکاتی مطالبہ لے کر تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔
ان کے بھوک ہڑتالی کیمپ پر ایک بینر آویزاں ہے جس پر لکھا ہے رجسٹر کرؤ یا لاش اٹھاؤ۔
تینوں میڈیکل کالجز کے طالب علموں نے میڈیکل الائنس کمیٹی کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہے جس کے بینر تلے پانچ طالب علم عدنان بلوچ، ساجد اکبر، سمیع، فارس اور نائید تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔
میڈیکل الائنس کمیٹی کی نمائندہ طلبہ عدیلہ بلوچ نے اس بارے میں مقامی میڈیا”ریڈیو زرمبش“ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں بغیر کسی خصوصی امتحان کے رجسٹر کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان تعلیمی حوالے پہلے سے ہی پسماندہ ہے لیکن یہاں ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت طلباء کے ساتھ ہمیشہ سے یہی ہوتا آ رہا ہے، کبھی ریزرو سیٹس، کبھی اسکالرشپ، کبھی رجسٹریشن کا معاملہ اور کبھی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کا رویہ اتنا مجبور کرتے ہیں کہ طالب علم اپنے کلاس چھوڑ کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔
”طلباء کو نفسیاتی اور جسمانی طور پر ٹارچر کیا جاتا ہے۔ ہم گذشتہ ستر دنوں سے احتجاج پر ہیں، کوئی نہیں سن رہا۔پی ایم سی کے امتحان کی یہی شرط رکھی گئی ہے کہ جو یہ ٹسٹ پاس کریں گے صرف وہی اپنی تعلیم جاری رکھ پائیں گے اور جو ٹسٹ میں پاس نہیں ہوں گے ان کی کالج سے رجسٹریشن ختم ہوجائے گی۔چاہئے وہ ایک سال سے کالج میں زیر تعلیم ہے یا چار سال سے، اسے کالج سے نکال دیا جائے گا۔“
انھوں نے کہا ہم فیل ہونے کے ڈر سے اس ٹسٹ کی مخالفت نہیں کر رہے بلکہ ہماری مخالفت کی یہ وجہ ہے کہ یہ ایک بے بنیاد اور غیرقانوجی ٹسٹ ہے۔تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی بلوچستان کے علاوہ کسی میڈیکل کالج کے لیے رجسٹریشن کی شرط میں یہ ٹسٹ شامل ہے۔پاکستان میڈیکل کمیشن کے ماتحت جو بھی کالجز رجسٹر کیے گئے ہیں ان سب کو بغیر اس اسپیشل ایگزام کے رجسٹر کیا گیا ہے۔باقی جگہوں پر طلباء ایک فارم پر کرتے ہیں اور دو ہزار روپے فیس دے کر رجسٹر ہوجاتے ہیں، یہ امتیازی سلوک صرف بلوچستان کے کالجز کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ یہ بلوچستان کی تعلیمی پسماندگی کو مزید بڑھانے کے مترادف ہے۔
عدیلہ بلوچ نے کہا ہمیں صرف جھوٹی تسلیاں دی جا رہی ہیں عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کی کوتائیوں کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے اور یہ ایک حقیقی مسئلہ ہے جسے ان کے بقول 13 فروری کو حل کردیا جائے گا۔ہم نے وزرا سمیت تمام لوگوں تک اپنا مسئلہ پہنچایا، ہم ان کے پاس بھی گئے جو تعلیمی دوستی کا دعوی کرتے ہیں لیکن وہاں سے بھی ہمیں صرف جھوٹی تسلیاں دی گئیں۔
”بھوک ہڑتال کا فیصلہ ہمارے لیے بہت سخت تھا لیکن ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ ہم ستر دن سے شال کی سڑکوں پر خوار تھے کوئی شنوائی نہیں ہو رہی تھی۔“
انھوں نے کہا یہ صرف سو لوگوں کے مستقبل کا معاملہ نہیں بلکہ سو گھرانوں کی امید ہیں۔
انھوں نے آخر میں کہا اگر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہمارے ساتھیوں کی زندگیوں کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار حکومتی عہدیداران، وزار، متعلقہ ادارے سربراہان اور تینوں کالجز کے پرنسپل ہوں گے۔