بلوچ لاپتہ افرادو شہدا کے بھوک ہڑتال کیمپ کراچی میں جاری ہے کیمپ کو ٹوٹل 4587 دن ہوگئے۔
اظہار یکجہتی کرنے والوں میں حب چوکی سے سیاسی سماجی کارکن واجد بلوچ ظہر بلوچ اور دیگر شامل تھے جنہوں نے کیمپ آ کر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
وی بی ایم پی کے وائس چیئر مین ماما قدیر بلوچ نے مخاطب ہو کر کہا کے بلوچستان میں بلوچ سیاسی رہنماؤں کارکنوں کے اغوا اور ان کے تشدد زدہ لاشوں کی بر امدگی پر انسانی حقوق کی بین الاقومی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنی جاری رپورٹ کہا ہے کہ گزشتہ چار ماہ سے سینکڑوں بلوچ رہنماوں کارکنوں کو اغوا اور قتل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کارکنوں اور طلبا کو زبردستی اغوا اور قانون تقاضے پورے کیے بغیر گرفتار کیا گیا،ٹارگٹ بنا کر غیر قانونی طور موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔یہ لہر بلوچستان میں بڑھتی بے چینی اور فوجی آپریشن کے بعد شروع ہوئی۔ ان رہنماؤں تشدد زدہ لاشوں کی بر امدگی ایک طے شدہ بڑھتی ہوئی پالیسی کا مظہر ہے کہ مارو اور پھینک دو۔
رپورٹ میں پاکستان حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان واقعات کی تحقیقات کرے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ اب ان پر صرف نظر کرنا پاکستان و بین الاقومی کسی بھی انسانی حقوق اور انصاف کے ادارے حلقے کے لئے ممکن نہیں رہا کیونکہ جس قسم کہ واقعات و سانحات بلوچ رہنماؤں و کارکنوں کے ساتھ کیے جانے والے بد ترین انسانیت سوز سلوک کی شکل میں بلوچستان میں رونما ہورہے ہیں وہ بذات خود ان اداروں اور ممالک کے وجود کے جواز پر سوالیہ نشان بن رہی ہیں۔ بلوچوں کو اغوا گمشدگیوں اور قتل کر کے لاشیں پھنکنے کا مسئلہ اب دنیا بھر کے نظروں میں آچکا ہے اور اس ضمن میں بعض انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ پاکستانی حکومت اس انسانیت سوز سلسلے کو بند کروائے۔ بلوچوں کے اغوا لاشوں کی بر آمدگی میں سیکورٹی اداروں کو ملوث قرار دے کر پاکستان حکومت کو عالمی سطح پر جو ابدی مقام پر لا کھڑا کر دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر لاپتہ بلوچوں کو بازیاب اور لاشیں پھینکنے کے گھناؤنے عمل کو بند کرائے۔