ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کے قریب ہے، امریکی سینیٹ میں انکشاف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکی سینیٹ میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ بوب میننڈرز نے خبردار کیا ہے کہ ”ایران کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کسی خراب سمجھوتے یا کسی ایسے عبوری معاہدے کے ذریعے ہمارے لیے خطرہ بنے جس کے ذریعے اسے اپنی جوہری صلاحیت بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے کا موقع مل جائے”۔

میننڈرز نے خبردار کیا کہ ”ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے مطلوب مواد حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے”۔

میننڈرز نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اور واشنگٹن کے بین الاقوامی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ ایران پر مزید دباؤ ڈالیں۔ اس طرح تہران کے جوہری پروگرام، میزائل پروگرام اور مشرق وسطی کے حوالے سے اس کے خطرناک رویے کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔ اس میں امریکی اثاثوں اور اہل کاروں پر حملے شامل ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ کے ذمے داران نے کل منگل کے روز بتایا کہ امریکا اور اس کے یورپی حلیف پرانے جوہری معاہدے کو واپس لانے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ممکنہ سمجھوتے میں امریکی قیدیوں کی متبادل رہائی شامل ہو گی۔ البتہ اس میں ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام، ایرانی ملیشیاؤں اور عدم استحکام کا باعث بننے والے تہران کے رویے کا کوئی علاج نہیں ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اب یہ معاملہ تہران میں علی خامنہ ای کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ وہ اس بات کا فیصلہ کریں کہ آیا ایرانی نظام پابندیوں میں نرمی کے مقابل اپنی بہت سی جوہری مصنوعات تلف کرنے کے واسطے تیار ہے.

امریکی انتظامیہ کے ایک اعلی ذمے دار کے مطابق ویانا بات چیت فیصلے کے مرحلے تک پہنچ گئی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment