میڈیکل الائنس کمیٹی کیچ نے سول سوسائٹی تربت کی حمایت کے ساتھ عطاشادڈگری کالج کے سامنے ریلی نکالی جس میں طالبات اور طلبا کے علاوہ تربت سول سوسائٹی کے ارکان نے کثیرتعدادمیں شرکت کی۔
پی ایم سی کے نئے ضابطے کے خلاف ریلی کے شرکا نے نعرہ بازی کی اورمطالبہ کیاکہ بی ایم سی کے نئے طلباوطالبات نے اپنے ٹیسٹ پاس کئے ہیں ان سے دومرتبہ ٹیسٹ لیناخلاف قانون اورضابطہ ہے۔
ریلی مختلف سڑکوں سے ہوتاہوا فدا شہید چوک پر جلسے کی شکل اختیار کرگیا۔
احتجاجی جلسے سے تربت سول سوسائٹی کے کنوینر چیئرمین گلزاردوست نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پی ایم سی کامطالبہ غیرآئینی اور تعلیم دشمن اقدام ہے، اسٹیبلشمنٹ اوربلوچ دشمن حکام نہیں چاہتے کہ بلوچ پڑھیں۔
انہوں نے الٹی میٹم دیتے ہوئے کہاکہ 24 فروری تک مطالبہ منظورنہیں کیا گیا تو ایم ایٹ سی پیک شاہراہ پر دھرنا دیکر غیرمعینہ مدت تک کے لیے بند کردیں گے۔
احتجاجی جلسہ سے آل پارٹیز کیچ کے رہنما کامریڈ ظریف زدگ، بی ایس او کی مرکزی کمیٹی کے رکن کریم شمبے بلوچ، بساک کی طالبہ رہنما، بی ایس او پجار کے رہنما باہوٹ چنگیز، میڈیکل الائنس کمیٹی کیچ کے رہنما جیئند بلوچ،حق دوتحریک کے رہنما، بی ایس اوکے کریم شمبے اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تعلیم کے حوالے جو پالیسیاں بلوچستان میں بنائی اوراپلاء کی جاتی ہیں انہیں پنجاب میں ہرگزنافذنہیں کیاجاسکتابلوچستان ہمیشہ ظلم اوربربیت کانشانہ ہے،پہلے کہاجاتاتھاکہ کوتعلیم سے رغبت نہیں لیکن آج بلوچستان بھربلکہ بھرمیں اپنے تعلیمی حقوق کے حصول کے لئے سراپااحتجاج ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ پڑھنے کے دن ہیں لیکن ہمیں سڑکوں پراپنے ہی حق کے حصول کے لئے ذلیل وخوارکیاجارہاہے،اس عمل سے حکومت کی تعلیم دشمنی عیاں ہے۔
ریلی میں جماعت اسلامی کیچ کے ضلعی امیر غلام یاسین، انجمن تاجران تربت کے جنرل سیکرٹری غلام اعظم دشتی، بی ایس او پجار کے رہنما نوید تاج اور دیگر شریک تھے۔