اب بلوچ مائیں بہنیں بھی ریاستی ٹارچر سیلوں میں قید ہونے لگے ہیں،ماما قدیر

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کراچی ریس کلب کے سامنے جاری ہے کیمپ کو دن مکمل 4575 ہوگئے۔

وائس فار بلوچ مسسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کے ساتھ بلوچ جبری لاپتہ راشد حسین،عبدالحید زہری اور عبدالحفیظ زہری کے لواحقین بھی کیمپ میں بیٹھے رہے۔

آج کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنے والوں میں پی ٹی ایم آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر محمد شیر بادشاہ پشتون ماما حسیب اللہ جمال پشتین نے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے وفود سے مخاطب ہوکر کہاکہ پشتونوں سندھیوں کی طرح بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں اپنے انتہاء کو پہنچ چکی ہیں۔ بلوچستان کے اکثریتی آبادی والے علاقوں کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ آئے روز فوجی کارروائیوں کے ذریعے آبادیوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ فوجی بریت کی وجہ سے علاقہ مکین تیزی سے نقل مکانی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ سرزمین پر بلوچ فرزندوں کی جبری اغوا اور مسخ شدہ لاشوں کاملنااب کوئی نئی بات نہیں کیونکہ 72 سالوں سے یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور مردوں کے ساتھ خواتین کی بھی جبری گمشدگی معمول بنتا جا رہا ہے جو انسانیت کے علمبرداروں اور اور اسلامی ریاست کے دعوے داروں کے منہ پرزور دار تماچہ ہے۔کوئی بھی اسلام یا کسی بھی مذہبی عقیدہ انسانیت کا احترام کرنے والوں ریاست ایسے غیر انسانی غیر اخلاقی حرکت کی اجازت نہیں دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ فرزندوں کے ساتھ بلوچ خواتین کو بھی نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مکران، مشکے، آواران سمیت دیگر علاقوں میں دوران آپریشن سیکورٹی فورسز کی فضائی اور زمینی حملوں سے سینکڑوں بلوچ خواتین اور بچے شہید ہوئے ہیں جبکہ دوران آپریشن خواتین اور بچوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔بلوچستان میں بلوچ نسل کشی میں شدت کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس میں بلوچ خواتین کی قتل عام اور جبری گمشدگیوں کے واقعات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو تشویشناک امر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاپتہ افراد کے لوحقین پریس کلبوں کے سامنے روز مظاہرہ کرتے ہیں لیکن افسوس یہ بدقسمت مائیں اور بہنیں بلوچ ہیں شاید انسانی حقوق کی تنظیموں اور نام نہاد آزاد صحافت والوں کے لئے بلوچ بحیثیت انسان کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ پہلے بلوچ مائیں اور بہنیں اپنے پیاروں کی گمشدگی کے کرب میں مبتلا تھے،اپنے لخت جگروں کی مسخ شدہ لاشوں کو گود میں اٹھائے روروکر اپنے آنسوں خشک کر دیتے تھے، روز پریس کلبوں کے سامنے اپنے فرزندوں کی تصایر اٹھائے رہے تھے لیکن شایداب بدقسمت ماؤں اور بہنو ں کی تقدیر بدل گئی ہے اب وہ خود ریاستی ٹارچر سیلوں میں قید ہونے لگے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment