بلوچستان کے علاقے پنجگور میں ایران بارڈر پرمحض بااثرشخصیات کے گاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے جبکہ عام غریب اور چھوٹے کاروباری طبقہ رل گئے۔
پنجگور میں ایران بارڈر پر 6ماہ کے دوران صرف سیاسی و بااثرشخصیات کے 400 گاڑیوں کے رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوگیا ہے جبکہ عام غریب اورچھوٹے کاروباری افراد کے 4ہزار گاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل ابھی تک باقی ہے جس سے کاروباری حلقوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔
عوامی و کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ پنجگور میں جتنے بھی گاڑیوں کی رجسٹریشن مکمل ہوئی ہے انکا تعلق سیاسی و بااثر شخصیات سے ہے۔ان میں بنیادی ایران بارڈر پر کاروبار کرنے والوں میں سے کسی کا نام شامل نہیں ہے جو گزشتہ ایران بارڈر پر پچاس سے زیادہ سالوں سے بارڈر پر کام کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ انکی رننگ گاڑیاں جو چل رہے تھے ان کو بلاک کرکے انہیں گزشتہ ایک ماہ سے دوبارہ بحال کرنے کا کہا گیا ہے لیکن کوئی خاطر خواہ یقین نہیں دلایا گیا ہے کہ کب بحال ہونگے۔انکے گھروں میں فاقہ کشی کا سماں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک ہزاروں لوگوں کے رجسٹریشن فارم و انکے نام رجسٹریشن اتھارٹی تک نہیں پہنچے ہیں وہ غائب ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کے اطلاع دینے کا میسیجز بھی غائب ہیں۔جس سے کاروباری لوگوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کمشنر مکران، بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ قدوس بیزنجو،کمانڈنٹ ایف سی ودیگر اعلیٰ احکام سے اپیل کی ہے کہ پنجگور کے غریبوں کے کاروبار و انکے روزگار کے اس مسئلے کو آسان بنانے کیلئے رجسٹریشن کے عمل کو تیز اور لوگوں کے گم شدہ فارم اور انکے ناموں کا نوٹس لیں۔ کمشنر احکامات کی روح سے کمیٹی کو ختم کرکے بارڈر کو ای ٹیگ سسٹم کے ساتھ انتظامیہ کے حوالے کیا جائے۔