امریکی موبائل نیٹ ورکس اے ٹی اینڈ ٹی اور ویرائزن نے کچھ ایئرپورٹس پر اپنی نئی فائیو جی سروس کی فراہمی ملتوی کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
تیز رفتار انٹرنیٹ اور وسیع تر کوریج فراہم کرنے والی اس سی بینڈ سروس کو ایک دن بعد شروع کیا جانا تھا۔
مگر امریکی ایئرلائنز نے اس کی شروعات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اُن کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے سگنلز طیاروں کے نیویگیشن سسٹمز میں رخنہ ڈال سکتے ہیں۔
ان مواصلاتی کمپنیوں نے سروس کی فراہمی محدود کرنے کے دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے اپنی بے چینی کا بھی اظہار کیا ہے۔
اے ٹی اینڈ ٹی کا کہنا ہے کہ وہ ‘مخصوص ایئرپورٹس کے رن ویز کے قریب محدود تعداد میں ٹاورز’ پر سروس کی فراہمی ‘عارضی طور پر’ ملتوی کر رہے ہیں۔
کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ ریگولیٹری اداروں کے پاس فائیو جی سروس کی شروعات کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے ‘دو سال’ تھے۔
اپنے ایک بیان میں دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنیوں میں سے ایک اے ٹی اینڈ ٹی نے کہا کہ ‘ہم وہ کام کرنے میں فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی ناکامی پر مضطرب ہیں جو 40 ممالک پہلے ہی کر چکے ہیں، یعنی ہوابازی میں کسی رخنے کے بغیر فائیو جی ٹیکنالوجی کی محفوظ تنصیب، اور ہم بروقت ایسا کرنے پر زور دیتے ہیں۔’
کمپنی نے کہا کہ ‘ہم سوائے محدود تعداد میں ان ٹاورز پر عارضی التوا کے اپنی جدید فائیو جی سروس منصوبے کے مطابق ہر جگہ شروع کر رہے ہیں۔’
ویرائزن نے بھی کہا کہ کمپنی نے ‘ایئرپورٹس کے گرد ہمارے فائیو جی نیٹ ورک کو رضاکارانہ طور پر محدود کرنے’ کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ تیسرا التوا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایئرلائنز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فائیو جی سروسز ہوابازی میں شدید مداخلت کر سکتی ہیں جس سے ایئرلائنز کو اپنے کچھ طیارے گراؤنڈ کرنے پڑیں گے اور پروازیں منسوخ کرنی پڑیں گی اور وائٹ ہاؤس اور حکامِ ہوابازی فضائی کمپنیوں کے نشاندہی کردہ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ فضائی کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ سی بینڈ استعمال کرنے والے فائیو جی سگنل طیاروں کے نیویگیشن سسٹمز میں مداخلت کر سکتے ہیں، خاص طور پر اُن سسٹمز میں جو خراب موسم میں استعمال کیے جاتے ہیں۔