اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بلوچستان کی صورتِ حال پر بی این ایم کے نمائندوں کا خطاب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے اراکین نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کی صورتِ حال، سوراب، زھری اور چلتن میں پاکستانی فوج کی فضائی جارحیت، اور بلوچ خواتین و لڑکیوں کو درپیش مسائل کا معاملہ اٹھایا۔

بی این ایم 63ویں اجلاس کے دوران جنیوا میں اپنی سیاسی اور سفارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

بی این ایم کی رکن مھرہ بلوچ نے کونسل کی توجہ بلوچ خواتین اور لڑکیوں کی صورتحال کی طرف دلائی۔ انھوں نے کہا کہ ان کے بنیادی حقوق پر پاکستانی حکام کی جانب سے سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، جن میں جبری گمشدگیاں، من مانی حراست، تشدد، ماورائے عدالت ہلاکتیں اور پرامن سیاسی اظہار پر پابندیاں شامل ہیں۔

مھرہ بلوچ نے کہا کہ بلوچ خواتین نے انصاف اور احتساب کے تحریکوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، تاہم بہت سی خواتین اپنے اہلِ خانہ کی جبری گمشدگیوں اور قتل کے جذباتی، سماجی اور اقتصادی نتائج خود اٹھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ان کی آواز، حقوق اور عوامی زندگی میں شرکت کا تحفظ اور احترام کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے پاکستانی ریاستی حکام کے اس سلسلے کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا اور کونسل سے بلوچستان کی آزاد نگرانی، شفاف تحقیقات، اور ان لوگوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا جو پرامن طریقے سے زیادتیوں کو دستاویزی شکل دیتے اور ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔

بی این ایم کے رکن احمد بلوچ نے کونسل کی توجہ بلوچستان میں شہریوں کے خلاف پاکستان کی فضائی طاقت کے استعمال کی طرف دلائی۔ انھوں نے کہا کہ 12 ستمبر 2026 کو سوراب میں پاکستانی فوج کی فضائی جارحیت ہوئی، جس میں چھ شہری ہلاک ہوئے، جن میں ایک خاتون اور دو سالہ بچہ شامل ہیں۔ نو دیگر زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر چھوٹے بچے ہیں۔

احمد بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے ہلاکتوں کو چھپے ہوئے دھماکہ خیز مواد سے جوڑا، جبکہ علاقے کی تصاویر اور فوٹیج میں سیریل نمبر والے گولہ بارود کے ٹکڑے اور فضائی بمباری سے مطابقت رکھنے والا نقصان نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق سوراب کی جارحیت پہلی نہیں؛ اس سے پہلے زھری اور شال کے چلتن علاقے میں بھی پاکستانی فوج نے فضائی طاقت استعمال کی۔

انھوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں فائٹر جیٹ، ڈرون اور ہیلی کاپٹر گن شپ کے بڑھتے استعمال سے ہزاروں جانیں خطرے میں ہیں۔ احمد بلوچ نے فضائی جارحیت کے خاتمے، بلوچستان تک بین الاقوامی رسائی، اور بلوچ قوم کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرنے اور اس کی حمایت کا مطالبہ کیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article