پنجگور میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے 2 اہلکار ہلاک،کیچ میں فورسزہاتھوں 5 افراد لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے ضلع پنجگور میں ایک مسلح جھڑپ میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے 2اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ ضلع کیچ میں پاکستانی فوج نے جارحیت کے دوران 5 افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیا ہے۔

ضلع پنجگور میں مسلح افراد کے مابین جھڑپ میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں مہیم سورانی اور اسد پرومی شامل ہیں۔

جھڑپ پنجگور اور پروم کے درمیانی علاقے درگِ دپ کے مقام پر ہوا ہے۔

مہیم سورانی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا تعلق سرکاری حمایت گروہ یعنی ڈیتھ اسکواڈ سے ہے جو بلوچوں کے اغوا، قتل اور آزادی پسند بلوچ جنگجوؤں کے مخبری سمیت سماجی برائیوں کے کاموں میں شامل تھا۔

آٹھ دسمبر کو بلوچ ریپبلکن آرمی نے پنجگور کے نواحی علاقے میں پانچ افراد ہلاک کیا تھا جس کے بارے میں مذکورہ تنظیم نے یہ کہا تھا کہ یہ لوگ مہیم سورانی کے کارندے تھے۔

ترجمان بی آر اے نے کہا تھا حملے میں ہلاک ہونے والے تمام کارندے مئی 2020 کو پروم میں ہونے والے جھڑپ میں شامل تھے جہاں بی ایل ایف کمانڈر میجر نورا پیرک ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے تھے۔ اس گروہ کے کارندے ریاستی سرپرستی میں چوری، ڈاکہ زنی اور غریب عوام کے عصمت دری میں بھی ملوث رہے۔

اس کے بعد کئی وٹس ایپ گروپ مہیم سورانی کا ایک مبینہ آڈیو گردش کرنے لگا مہیم خود اعتراف کررہا تھا کہ وہ پروم واقعہ میں شامل تھا۔

مہیم سورانی پہ اس سے قبل بھی یہ الزام لگا ہے کہ وہ لوگوں کو اغواء و قتل سمیت کئی سماجی برائیوں میں ملوث ہیں اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے انہیں مکمل چھوٹ دی ہوئی ہے۔

دریں اثناضلع کیچ سے پاکستانی فورسز نے 5افراد کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق گذشتہ تین دنوں سے ضلع کیچ کے علاقے زامران دشتک میں پاکستانی فوج کی جارحیت جاری ہے جہاں فورسز نے5 افراد کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا ہے۔

لاپتہ ہونے والوں کی شناخت ریاض ولد فتح محمد، نثار ولد فتح محمد، مدی ولد کہدہ سہراب اور بشام کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ لاپتہ ہونے والے ایک شخص کی شناخت تاحال نہیں ہوسکا۔

آخری اطلاعات تک فورسز بڑی تعداد میں علاقے میں موجود ہیں اور علاقے میں فوجی جارحیت تاحال جاری ہے۔

Share This Article
Leave a Comment