مری میں 22 سیاحوں کی ہلاکت کی ذمہ دار پوری ریاست ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کے اسلام آباد ہائیکورٹ نے مری میں سیاحوں کی ہلاکت کی ذمہ دار پوری ریاست کو قرار دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم عمران خان کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک ہفتے میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کا اجلاس طلب کر کے پنجاب کے تفریحی مقام مری میں 22 سیاحوں کی ہلاکت کے واقعے میں کوتاہی کے مرتکب افراد کی نشاندہی کریں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن وزیراعظم پاکستان کی زیرِ سربراہی کام کرنے والا وہ پالیسی ساز ادارہ ہے جو قدرتی آفات سے نمٹنے کے سلسلے میں حکمتِ عملی تیار کرنے کا ذمہ دار ہے۔ پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کا قومی ادارہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اسی ادارے کے تحت کام کرتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے این ڈی ایم سی کا اجلاس بلانے کا حکم جمعرات کو مری میں برف باری کے دوران 22 افراد کی ہلاکت سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران دیا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ تشکیل کے بعد سے اس کمیشن کے صرف دو اجلاس ہی منعقد ہوئے ہیں جن میں سے پہلا 2013 اور دوسرا 2018 میں ہوا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پوری ریاست ان ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے۔ انھوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے اس واقعے میں اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے سے متعلق بنایا گیا قانون موجود تو ہے لیکن بدقسمتی سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا اور اس قانون کے تحت ضلعے کی سطح پر بھی ذمہ داروں کا تعین ہوتا ہے۔

ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس بارے میں قانون کا جائزہ لینا پڑے گا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی کے لیے قانون سنہ 2010 میں بنا تھا اور وہ سنہ 2022 میں عدالت کو بتا رہے ہیں کہ انھیں اس بارے میں چیک کرنا پڑے گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اس قانون پر عمل ہوا ہوتا تو ایک شہری کی بھی ہلاکت نہ ہوتی۔ سماعت کے دوران انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سب کہہ رہے ہیں کہ مری کے لوگ اچھے نہیں ہیں۔ اس میں ان کا کیا قصور ہے؟

انھوں نے کہا کہ اگر ڈسٹرکٹ پلان بنا ہوتا تو کوئی بھی ہوٹل والا لوگوں سے اضافی پیسے لینے کی جرأت نہ کرتا۔

اس درخواست کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ حکومتِ پنجاب نے بھی مری میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیٹی قائم کی تھی جس نے بدھ کو مری پہنچ کر کام شروع کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کمیٹی کے ارکان چار دن مری میں ہی قیام کریں گے اور سیاحوں کی ہلاکت کی وجوہات اور انتظامی سطح پر ہونے والی کوتاہیوں اور غفلت کے حوالے سے تحقیقات کریں گے۔

یاد رہے کہ پنجاب کے پہاڑی تفریحی مقام مری میں گذشتہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب شدید برف باری کے دوران گاڑیوں میں پھنسے 22 سے زائد سیاح ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment