بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے کے ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ کل دس جنوری کو ضلع پنجگور میں سرمچاروں نے چتکان تار آفس کے پاس ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے خاص کارندے صفی اللہ ولد ماسٹر اکبر کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا۔
مذکورہ شخص ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کا ایک اہم کارندہ اور ریاستی مخبر تھا جو بلوچوں کی اغوا اور مختلف آپریشن میں ریاستی فورسز کی مدد کرتا رہا ہے۔ وہ چوری اور بھتہ خوری جیسی سماجی برائیوں میں بھی ملوث تھا۔
اس سے پہلے صفی اللہ اور اس کا ایک بھائی ایک مسلح تنظیم کا رکن تھے لیکن بعد میں دونوں نے سرنڈر کیا۔
صفی اللہ 27 اپریل2020 میں پروم کلہ کور میں میجر نورا اور انکے ساتھیوں کی شہادت میں براہ راست ملوث تھا۔ یہاں اسکا بڑا بھائی شکراللہ ولد ماسٹر اکبر مارا گیا تھا۔
صفی اللہ پر حملے کے وقت حضور بخش نامی ایک شخص گولی لگنے سے ہلاک ہوا ہے۔ وہ بے گناہ ہے اور ہم اس کے خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور عام لوگوں سے ایک مرتبہ پھر اپیل کرتے ہیں کہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں سے دور رہیں۔ وہ سرمچاروں کے نشانے پر ہیں کیونکہ وہ بلوچ نسل کشی میں پاکستانی فوج کا ساتھ دے رہے ہیں۔