طالبان وزیر خارجہ متقی کا دورہ ایران،افغان قومی مزاحمتی محاذ کے سربراہان احمد مسعود سے کی ملاقات

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

افغانستان کے طالبان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کی سینئر قیادت نے پیر کے روز ہمسایہ ملک ایران میں افغان حزب مخالف سے تعلق رکھنے والے خودساختہ جلا وطن راہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ اسلامی گروپ کی حکمرانی کے خلاف مزاحمت بند کریں اور اگر وہ وطن واپس آجائیں تو ان کی سیکیورٹی کی ضمانت دی جائے گی۔

طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اپنے وفد کی قیادت کی جس کی ملاقات قومی مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد مسعود اور ایک سابق افغان وزیر اور صوبائی گورنر، اسماعیل خان سے ہوئی۔

تہران میں دونوں فریقوں کے مابین ہونے والے اس پہلے براہ راست رابطے کے بارے میں تفصیل دیتے ہوئے، طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے بتایا کہ متقی نے طالبان کی اس یقین دہانی کا اعادہ کیا کہ وہ تمام افغانوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے کوشاں ہیں، جس کے بعد ”کسی مزاحمت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی”۔

ایک ویڈٖیو میں متقی نے خود بھی اس ملاقات کی تصدیق کی ہے، جسے طالبان نے ایرانی عہدیداروں کے ساتھ دو روزہ باہمی ملاقات کے اختتام پر جاری کیا ہے۔

متقی کے الفاظ میں ”ہاں۔ ہم ایران میں کمانڈر اسماعیل خان اور احمد مسعود کے علاوہ وہاں موجود دیگر افغانوں کے ساتھ ملے ہیں ”۔

طالبان کے سفارت کاری کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ ”ہم نے ان سب کو یہ یقین دلایا کہ وہ واپس آ کر آزادانہ طور پر اور بحفاظت افغانستان میں رہ سکتے ہیں۔ ہمارا (طالبان) کوئی ارادہ نہیں کہ کسی کے لیے بھی سیکیورٹی یا کوئی اور مسئلہ کھڑا کریں ”۔

نہ ہی مسعود اور نہ ہی اسماعیل خان سے، جو دونوں ہی تاجک نسل سے تعلق رکھتے ہیں، فوری طور پر کوئی رابطہ ہو سکا۔ زیادہ تر طالبان پشتون نسل سے تعلق رکھتے ہیں، اور افغانستان میں ان کا گروپ اکثریت میں ہے۔

ہمسایہ ملک اور عالمی برادری طالبان پردباؤ ڈالتی رہی ہے کہ وہ قومی سیاسی میں مفاہمت کو فروغ دیں اور ایک جامع حکومت تشکیل دیں جو تمام افغانوں کے انسانی حقوق کی حرمت کو یقینی بنائے، جس کے بعد ہی دنیا کابل پر ان کی حکمرانی جائز ہونے کے بارے میں غور کر سکتی ہے۔

بیس سالوں کے بعد امریکی قیادت کی فوج کے ملک سے انخلا کے بعد وسط اگست میں اس اسلام نواز گروپ نے مغربی حمایت یافتہ حکومت کی جگہ افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کیا۔ مزاحمتی محاذ نے اقتدار کی منتقلی کی مخالفت کی، جس پر کابل کے شمال میں پنج شیر کے مزاحمتی گڑھ میں دونوں فریق کے درمیان پر تشدد جھڑپیں واقع ہوئیں۔

ایران کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ اختتام ہفتہ طالبان وفد کے اس دورے کی آمد سے یہ مراد نہیں ہے کہ ایران سرکاری طورپرکابل حکومت کو تسلیم کرتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment