نائیجریا میں شدت پسند گروہوں کے حملے میں 200 سے زائد افراد ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

فوج کی جانب سے نائیجیریا کے مسلح گروہوں پر فضائی کارروائی کے بعد شدت پسند گروہ کے جوابی حملے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مقامی افراد نے بتایا کہ فوج کی جانب سے علاقے کے محاصرے کے بعد رہائشی افراد ہفتے کو مقتولین کی اجتماعی تدفین کے لیے گاؤں گئے، حکومت کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں 58 افراد قتل کیے گئے۔

حملے میں بیوی اور تین بچے کھو دینے والے مقامی فرد امارو ماکیری نے نے بتایا کہ 154 کے قریب لوگوں کو دفنایا جاچکا ہے جن میں کئی وہ لوگ تھے جو چوکیداری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مرنیوالوں کی کم از کم تعداد 200 ہے۔

منگل کو زمفارا کے علاقے میں میں 300 سے زائد موٹر سائیکل سوار مسلح شدت پسندوں نے 8 گاؤں میں داخل ہو کر فائرنگ شروع کردی تھی اور جمعہ کو رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں 30افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

فوج کا کہنا ہے کہ انہوں ن نے زمفارا کے جنگلات میں پیر کی صبح شدت پسندوں کے مختلف اہداف پر فضائی کارروائیاں کی تھیں جس میں ان کے سرغنہ سمیت 100 سے زائدساتھی مارے گئے۔

ایک مقامی فرد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گاؤں پر حملہ فوجی کارروائی کا ردعمل ہو سکتا ہے۔

شمالی نائجیریا میں کئی حملے ہوچکے ہیں اور 2020 کے آخر سے اغوا اور دیگر پرتشدد جرائم سمیت ان حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے کیونکہ حکومت کو امن و امان قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

نائجیرین اسٹیٹ کیبی کے گورنر کے ترجمان نے تفصیلات نے بتایا کہ ایک علیحدہ واقعے میں شمال مغربی نائیجرین اسٹیٹ کیبی کے کالج سے اغوا کیے گئے 30 طلبا ہفتے کو رہا کر دیے گئے تھے۔

صدر محمدو بخاری نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ عام عوام کو تشدد کا نشانہ بنانے والے جرائم پیشہ گروہوں کا پتہ لگانے اور ان کے خاتمے کے لیے فوج کو مزید ساز وسامان مہیا کردیا گیا ہے۔

محمدو بخاری نے کہا کہ ڈاکوؤں کی جانب سے معصوم لوگوں پر حالیہ حملے ہماری فوج کی جانب سے بے رحمانہ دباؤ کے تحت بڑے پیمانے پر لوگوں کو قتل کرنیوالوں کی مایوسی کا ایک قدم ہے۔

محمدو بخاری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ڈاکوؤں کے خاتمے کے لیے جاری اپنے فوجی آپریشن سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

Share This Article
Leave a Comment