افغانستان: طالبان کا دکانداروں سے نمائشی مجسموں کے سر کاٹ دینے کا حکم

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

افغانستان میں طالبان حکام نے مغربی افغانستان میں تمام ملبوسات کے دکانداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی دکانوں میں رکھے گئے سبھی نمائشی مجسموں کے سر کاٹ دیں۔

اس حکم کے مطابق بظاہر انسانوں کی شبیہہ نظر آنے والے مجسمے اسلامی قانون کے منافی ہیں۔

طالبان کے اس حکم کے اجرا کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو بھی وائرل ہو گئی، جس میں چند آدمیوں کو عام دکانوں میں ملبوسات وغیرہ کی نمائش کے لیے استعمال ہونے والے پلاسٹک کے نسوانی مجسموں کی سر آریوں سے کاٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

گزشتہ برس اگست میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغان طالبان ملک میں اسلامی قوانین کی اپنی بہت سخت گیر تشریحات کو بتدریج نافذ کر چکے ہیں، جن سے کئی طرح کی آزادیاں خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کی آزادیاں متاثر اور محدود ہوئی ہیں۔

افغانستان میں نیکی کی ترویج اور برائی کی روک تھام کی ملکی وزارت کے ہرات میں مقامی سربراہ عزیز رحمان نے بدھ کے روز نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ”ہم نے دکانداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام نمائشی مجسموں کے سر کاٹ دیں، کیونکہ ان کی وجہ سے اسلامی شرعی قوانین کی نفی ہوتی ہے۔“

طالبان کے اس بارے میں حکم کے اجرا کے بعد شروع میں چند دکانداروں نے اس مسئلے کا یہ حل بھی نکالا تھا کہ انہوں نے ایسے نمائشی مجسموں کے سروں کو ہیڈ اسکارف یا پلاسٹک کے بیگ استعمال کرتے ہوئے ڈھانپ دیا تھا۔

اس بارے میں طالبان کی سوچ کی وضاحت کرتے ہوئے عزیز رحمان نے مزید کہا، ”اگر کوئی دکاندار کسی نمائشی مجسمے کا صرف سر یا اسے پورے کا پورا بھی ڈھانپ دے، تو فرشتے اس کی دکان یا گھر میں داخل نہیں ہوں گے۔“

طالبان نے یہ حکم فی الحال مغربی افغانستان میں عام دکانداروں کے لیے جاری کیا ہے اور ابھی تک انہوں نے اس بارے میں قومی سطح کی کسی پالیسی کا اعلان نہیں کیا۔ ہندوکش کی اس ریاست میں طالبان کے نوے کی دہائی میں گزشتہ دور حکومت میں بھی انسانی چہروں کی کسی بھی طرح کی شبیہہ بنانا ممنوع تھا۔

گزشتہ موسم گرما میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے طالبان شراب بیچنے والوں کے خلاف ملک گیر سطح پر کارروائیاں شروع کر چکے ہیں، ملک بھر میں بہت بڑی تعداد میں نشے کے عادی افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور موسیقی پر بھی دوبارہ پابندی لگا جا چکی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment