رکھیہ خان کو ایف سی صوبیدار رحمت اللہ نے گرفتاری کے بعد لاپتہ کیا ، لواحقین کی پریس کانفرنس

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ سے جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے رکھیہ خان ولد قادر خان کے لواحقین نے منگل کے روز کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رکھیہ خان کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے رکھیہ خان کے لواحقین کا کہنا تھا کہ رکھیہ خان کو 8 جون 2019 کو شاہرگ ضلع ہرنائی سے ایف سی کے صوبدار رحمت اللہ و دیگر سرکاری اہلکاروں نے اہلخانہ کے سامنے سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں رکھیہ خان کے حوالے سے معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے خاندان ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ رکھیہ خان کے جبری گمشدگی 8 ماہ بعد ایف سی کے صوبدار رحمت اللہ و دیگر سرکاری اہلکاروں نے رکھیہ کے بھائی لقمان کو شاہرگ بازار سے گرفتار کیا اور لقمان کو گھر لاکر گھر کی تلاشی بھی لی اور لقمان کو اپنے ساتھ لے گیے، 11 ماہ کے بعد لقمان کو چھوڑ دیا گیا۔

جبری لاپتہ رکھیہ خان کے اہلخانہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ سے ملاقات کر رہے ہیں۔

اہلخانہ نے حکومت، عدلیہ اور ملکی اداروں کے سربراہوں سے اپیل کی کہ رکھیہ کی بازیابی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ رکھیہ خان کی اہلخانہ نے ان سے ملاقات میں شکایت کی کہ ایف سی کے صوبدار رحمت اللہ اور دیگر سرکاری اہلکار انکے گھر پر اکثر چھاپہ بھی مار کر گھر کی تلاشی بھی لیتےتھے اور انہیں گھروں کو جلانے کی دھمکی بھی دیتے تھے ۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ یہ ثابت ہے کہ ایف سی کے صوبدار رحمت اللہ رکھیہ خان کی جبری گمشدگی میں ملوث ہے اسلیے ہم اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر رکھیہ خان پر الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کرے اور بے قصور ہے تو فوراً رہا کرے۔

انہوں نے کہا کہ رکھیہ کے بیوی و بچہ اور والدین انکی جبری گمشدگی کے وجہ سے سخت پریشان ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment