بلوچ جبری لاپتہ افراداور شہداکے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4547 دن ہوگئے۔
اظہاریکجہتی کرنے والوں میں سندھ سباہ کے صدر انعام عباس، جنرل سیکرٹری اور کابینہ کے لوگوں نے کیمپ آکر اظہاریکجہتی کی۔
وی بی ایم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے مخاطب ہوکرکہاکہ تاریخ خود کو دہراتی ہے اور عمل کا بھی کوئی مقافات ہے۔دانشوروں کی قحط سالی ہے ورنہ بر صغیر کے انقابی تحریکوں سے اثرمندہو نے والے کسی دانشور کو مہمان خصوصی بنالیتے اور پوچھتے کہ بتاؤ کہ ان کو بندوق ملی وہ گر بر س پڑتے توپتہ چلتاہے کہ بلوچ بندوق کی پیداوار ہے یا بندوق بلوچ کی۔یہ بندوق کسی اور کی ہے اسے چلاتا کوئی اور ہے۔ اگر ایسا ہے توکل جنیواکنونشن کو کیا منہ دکھاؤگے یعنی مظلوم واقعی ظالم ہے۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ ایک فردنہیں ایک قومی انجمن ہے۔ اگر پورے شہید بلوچوں کاحساب لگایا جائے لاکھوں میں چلاجائے گا۔ مگر اب تک 20 ہزار بلوچ نوجوانوں کی لاشیں دستیاب ہوئی ہیں۔کسی حادثے میں اگر کسی گھر کا کفیل مرجائے تو کہا جاتاہے کہ ایک فردنہیں ایک خاندان مرگیا۔ کسی پرامن جدوجہد کوگولیوں سے بھون کر اس کی مسح شدہ لاش ویرانوں میں پینک دیاجائے تو کہا جاتاہے کہ کوئی انقلابی شہید ہواہے کاش کہ انقلابی کو خون کی اشدضرورت کے ساتھ ساتھ پر ہیز کی بھی ضرورت ہوتی۔ ایک دن میں ایک پوری قوم ایک پوری جماعت ایک سوچ ایک نظریے کو دن دھاڑے سربازار ہزاروں انسانوں اورلاکھوں آنکھوں کے سامنے سادہ لباس میں ملبوس نامعلوم افراد آنکھوں پر کالی پٹیاں باندھ کر بھیڑ بکریوں کی طرح أٹھاکر نامعلوم مقام ومزلوں کی جانب لے جاتے ہیں اور انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بناکر مسح شدہ حالت میں ہمارے معرفتوں پہ ارسال نہ کردیئے جاتے ہیں۔
ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ ساتھیوں کے قومی سانحہ رونماہونے کے بعد اتنی طویل بے نظمی بے سبب بھی نہیں،کچھ تو ہے جس کی پر دہ داری ہے ورنہ ہرکوئی بے وفا نہیں ہوتا کہناتویوں چاہیے کہ دشمن طاقتور نہیں ہم کمزور ہیں مگر جسمانی طورپر نہیں دماغی طورپر مگر کہایوں بھی گیا کہ مسخ شدہ لاشیں ہمارے حوصلوں کو پست کرسکتے ہیں،ساتھیوں کی قربانیوں نے ہمارے ارادوں کو اور بھی زیادہ مضبوط کردیاہے۔