بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سال 2021میں 30افراد ہلاک اور 46زخمی ہوئے۔
سرکاری اور غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق پنجگور میں سال 2021 کے دوران چوری،ڈکیتی،فائرنگ اورمختلف نوعیت کے واقعات کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک اور 46 افراد زخمی ہوگئے۔
سال 2021 میں کئی گھرانوں کے چراغ گل ہوگئے،کئی ماؤں کے گود اجاڑ دیئے گئے،کئی خواتین بیوہ اورکئی بہنوں کی آنکھوں کے نور جدا ہوگئیں۔
کئی گھرانوں کے لخت جگر فائرنگ کی زد میں معذوروں و زخمی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
دنیا جسے سی پیک اور بلوچستان وپاکستان کیلئے گیم چینجر کہتی ہے اسی روٹ کے روڈ کے مختلف مقامات پر ٹریفک حادثات نے بھی اپنی درد دینے کا کسر نہیں چھوڑا۔
مختلف حادثات تصادم و جلنے کی وجہ سے 35 افراد جان سے گئے اور 68 زخمی ہوئے۔
لاکھوں کروڑوں روپے کے مال و املاک آتشزدگی کی وجہ سے جل کر خاکستر ہوئے۔
اسی سال کے دوران ایرانی فورسز نے ایرانی حدود میں فائرنگ کرکے 15 کے قریب بلوچوں کوقتل اور درجنوں کے قریب لوگوں کو زخمی کردیا جو انٹرنیشنل سطح پر خبر بنا رہا۔
سال 2021 کے دوران مسلح تنظیموں اور نامعلوم افراد کی جانب سے دس سے زیادہ مرتبہ سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں اور پارٹی گشت کو نشانہ بنایاگیا ان میں کئی جانی وہ مالی نقصان کا بھی سامنا رہا۔
گیارہ سے زیادہ مرتبہ مختلف مقامات پر بم دھماکے ہوئے مال و املاک کو نقصان پہنچا۔
اس سال کا سب سے بڑا دھماکا وشبود گرمکان ٹیکسی اسٹینڈ پر ہوا جس میں دو راہگیر جان سے گئے اور تین سکیورٹی فورسز کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
اسی سال کے دوران 9 لاشیں برآمد ہوئیں۔ درجن کے قریب لوگ اغوا اور لاپتا کردیئے گئے۔
اسی سال کے دوران بجلی کے کرنٹ لگنے سے خواتین سمیت 4 افراد جان سے گئے۔
اسی سال کے دوران بلوچ روایات کے برخلاف واقعات میں گھروں میں گھس کر فائرنگ اور عالم دین کمسن بچوں پر بھی حملے شامل تھے جو بلوچی روایت کے خلاف تھے۔
واضح رہے اسی سال کے دوران مکران سے منسلک ایرانی بارڈر پر باڑ لگا کر کام کرنے والے غریب لوگوں کے کاروبار پر پابندی عائد کر دی گئی اور ٹوکن سسٹم کا اجرا کیا گیا جس کی وجہ سے لاکھوں افراد بے روزگار ہوئے۔
واضح رہے اسی سال کے دوران مختلف واقعات رپورٹ نہیں ہوئے تھے جو اس سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔