لاپتہ افراد شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4544 دن ہوگئے۔
اظہار یکجہتی کرنے والوں میں مند کیچ سے سول سوسائٹی کے سلیمان بلوچ نسیم بلوچ عبیداللہ نے کیمپ آکر لواحقیں سے اظہاریکجہتی کی۔
وی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ 2021 کے سال میں مقبوضہ بلوچستان مکمل طور پرریاستی عتاب کا شکار رہا۔اورایسا کوئی دن نہیں گزراجو کوئی ایک منحو س خبرنہ سنی ہو کہ آج ریاست نے اپنے ہاتھ کو بلوچ کے خون سے رنگنے سے روک لیا ہے۔ پورے سال میں اگر کسی جگہ کسی بلوچ فرزندکو اغو اکیا گیا تو کسی دوسرے جگہ مسخ شدہ لاش ملنے کی خبر گردش کرتی رہی۔ ہر صبح أٹھتے ہی دن کی ابتدا اور ااختتام پریاستی مظالم سے ہوتا رہا۔
ریاست نے نئی حکمت عمل لاتے ہوئے اس سال ایک ایک طرف تو بلوچ خواتین کو اغوا کرنا شروع کردیا تودوسری طرف تمام لاشوں کو دانستہ طور پر پشتون علاقوں میں پھینکنا شروع کیا جہاں مختلف دنوں میں ان علاقوں سے کئی لاشیں ملی ہیں جن کا مقصد ان لاشوں کے ملنے کے بعد بلوچ آبادی میں عوامی ردعمل کوکم کرنا تھا اور یہ تاثر بھی دینا تھاکہ یہ لاشیں بلوچوں کے بجائے پشتونوں یا کسی اور کی ہیں۔
پاکستانی حکمرانوں پرامن جدوجہد کوکاؤنٹر کرنے کیلئے اپنی کارروایؤں میں تیزی لائی ہے۔ پورے بلوچستان میں پاکستان آرمی نے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے سرچ آپریشن شروع کیا جن میں ایف سی، سی ٹی ڈی نے چادر چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے بلوچ خواتین کو اغوا کیا کیا مگر بلوچ مگر خواتین کی مزاحمت پر ان کو چھوڑ دیاگیا۔ کئی دنوں تک ریاستی لشکر پورے علاقے میں گھروں میں لوٹ مار اور گھروں کو جلاتے رہے۔ان دو ران علاقے گھیراؤ میں رہنے کی وجہ سے خوراک کی کمی سے بچوں اور خواتیں کو فاقے کرنے پڑے۔
ماما قدیر بلوچ نے مزید کہاکہ بلوچ خواتین کا اغوا یا لاپتہ کرنا ایک تشویش ناک عمل ہے۔ بلوچ قومی پرُامن جدوجہد میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردارنے جس طرح جدوجہد کو شعوری طور پر لیس کردیا ہے اور خواتین کے تاریخی کردار نے بلوچ قوم کی آواز کو اعلیٰ سطح پراجاگرکردیا ہے۔