لاپتہ افراد کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4529 دن ہوگئے۔
اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بانک آمنہ بلوچ ڈپٹی آرگنائزر عبدالوہاب بلوچ اور اکٹیوسٹ خالدہ ایڈوکیٹ نے اظہار یکجہتی کی۔
وی۔بی۔ایم۔پی وائس چئیرمین ماما قدیر بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکومی استحصال جبر و استبداد اور بیرونی قبضہ گیری کا خاتمہ متاثرہ اقوام انسانی گروہوں مظلوم طبقات کی جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں ہے یہ تاریخی حقیقت ایک مسلمہ قانون بن چکی ہے کہ جبر و استبداد کے خلاف انسانی مزاحمت کا پیدا ہونا نا گزیز ہے خصوصا ایسے سماج اور اقوام میں جہاں آزاد باوقار اور مساوی حیثیت میں زندہ رہنا قانون بن چکی ہے۔
ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ قابض کو گمان تھا کہ وہ سفاکیت اور وحشت و دہشت سے بلوچ قوم کو اپنے غلامانہ شکنجے میں جکڑے میں کامیاب ہوجائے گا لیکن بلوچ فرزندوں نے اپنے خون سے کی جس باعث مختلف نشیب آنے کے باوجود بلوچ پر امن جدوجہد کسی نہ کسی صورت میں قائم رہی لیکن بلوچ فرزندوں نے پرامن جدوجہد کرتے ہوئے جس طرح اپنی جانوں کے نذرانہ دیے اس سے قابض قوتوں کا گمان اور تکبر ٹوٹ کر چکنا چور ہو گیا۔
ایسے بلوچ فرزندوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جو اس جرم کی پاداش میں نو آبادیاتی قوتوں کے لئے قابل گردن زدنی قرار پائے اور انہیں شہید کردیا گیا یا جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جو آج تک جیلوں میں پابند سلاسل ہیں بلوچ رہنماؤں کی شہادت بلوچ نسل کشی نو آبادیاتی ریاستی پالیسی پر عمل درآمد کا گھناؤنا آغاز ہے اس کے بعد اٹھاو اور پھینکو کا وحشیانہ عمل تیز کردیا گیا جو ہنوز جاری ہے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور المیوں کا تسلسل ہر آنے والے دو دن کے ساتھ شدت اختیار کر رہی ہے جنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں پر نہ تو بلوچ قوم کو باوقار طور پر زندہ رہنے کا حق ہے اور نہ ہی انہیں پاکستانی حکمرانوں کے بلند و بانگ دعووں کے مطابق جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں۔