فتویٰ بازی اور خود کو افضل سمجھنے کا رویہ ترک کرنا ہوگا، ماما قدیر

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4527دن ہوگے۔

اظہار یکجہتی کرنے والوں میں کراچی سے سیاسی سماجی کارکن سھہل بلوچ چا کر بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنسز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ فتوئ بازی اور خود کو افضل سمجھنے کا رویہ ترک کرنا ہوگا سھبی قوم کی عدالت میں احتساب کے لیے تیار رہیں اگر ایسے سوالات اٹھانے کی بات ہوتی تو پرانے لیڈروں سے بڑھ کر ایسی کونسی شحصیت ہو سکتی ہے انہوں نے اپنی دانشوری کا زعم نہیں دکھایا بڑے حالت میں بھی اپنے بدترین دشمنوں کے خلاف ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے لوگوں کی سوچ فتشر ہوجاتے لوگوں کو فتشر کرنے کے بجائے ان کی سوچ کو ایک مرکز پر لانا ہوگا سب سے اہم بات یہ ہے پر امن تنظیموں میں موقع پر رستوں کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ہمیں ہر قدم پر ہوشیار رہنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ درباری زہہیت کو اپنے بہچ میں سے نکالنا ہوگا عوام اور بعض سیاسی شحصیات کی قربت کی خاطر قوم کے مفاد کو داو پر لگانے والوں سے دور رہنا ہوگا بیشک ہماری تعداد کم ہو اس سے فرق نہیں پڑتا لیکن ایک بار موقع پر ست ہمارے درمیان میں گھس بیٹھے وہ اِختلافات کو ضرور ہوا دینگے ایسے انسان کی تربیت کسی اور ماحول میں ہوئے ہیں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ لاکھوں بلوچوں کے خون اور جذبات کی بنیاد جس نرگسیت کی بنیاد ڈالی جارہی ہے یہ تباہی کا باعث ہے اسے روکنے کے لیے جہاں عملی موثر ہتھیار رہا ہے زہنی عیا شی کے ذریعے قوم کی خدمت نہیں ہو سکتی اس نقطہ کو ضرور سمجھنا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ چند موقع پرستوں کو یہ حق نہیں دینا چا ہیے کہ وہ الٹے سیدھے سوالات کے ذریعے اپنی انا کی تسکین یا رد عمل کے طور پر بلوچ پرامن جدوجہد کے خلاف زہر پھیلائیں جن کو مقبولیت اور شہرت کا شوق ہے ان پر کوئی پابندی نہیں وہ کوئی اور میدان بھی منتخب کر سکتے ہیں۔ موقع اور سوشل میڈیا کے نادان دوستوں کو آ خر کب تک سمجھنا پڑے گا کہ پر امن جدوجہد صبح کا نا شتہ دو پہر یا رات کی ضیافت نہیں ہے۔

Share This Article
Leave a Comment