جبری بلوچ لاپتہ افراد کے معاملے پرپاکستان کے مقتدرہ حلقوں کے ایمان جل گئے،ماما قدیر

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

جبری بلوچ لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4524 دن پورے ہوگئے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

پیر کے روز ھمل بلوچ، محمد اقبال بلوچ اور کے بی بلوچ نے کیمپ میں آکر لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر بلوچ نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان میں سابق چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک سے بلوچوں کو بھی امید تھی کہ جبری لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہوگا، جبری لاپتہ افراد بازیاب ہوں گے اور آئندہ کسی ادارے کو ہمت نہیں ہوگی کہ کسی کو جبری لاپتہ کرئے۔لیکن بلوچوں کو مایوسی ہوئی اور مشرف سے لڑ کر بحال ہونے والی عدلیہ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی میں کوئی کردار ادا نہ کرسکی۔

”بلوچوں کو امید تھی کہ بلوچ فرزند واپس لوٹیں گے، اب کسی ماں کا بچہ اس طرح نہیں بچھڑے گا کہ عدم کا مال ہو، زندگی ویسی ہوگی جیسے کہ اس سے قبل ہوا کرتی تھی، بدی کی قوتوں کو آئینی لگام لگ جائیں گے اور بلوچ کے ساتھ غیرانسانی سلوک نہیں کیا جائے گا لیکن سب نے دیکھا آسمان کی وسعتوں میں محو پرواز چیف جسٹس کے پروں کو بدی کی قوتوں سے ایسی آگ لگ گئی کہ بلوچ اڑنے سے پہلے قفس میں پھڑا پھڑا کر رہ گئے۔“

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا جبری بلوچ لاپتہ افراد کے معاملے میں یہ آگ دراصل کسی ایک جج کے پروں کو نہیں بلکہ اس معاملے میں پاکستانی حکمرانوں اور اداروں کے اعلی عہدوں پر براجمان سب منصفوں کے ایمان جل گئے ہیں۔اس جلے ہوئے ایمان کی راکھ پاکستان کی سیاہ تاریخ لکھی جارہی اور ا س میں سیاہ ترین باب یہی ہوگا جو بلوچ فرزندوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment