بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ پاکستانی ریاست اورفوج بلوچستان میں نسل کشی کے نت نئے طریقے آزمارہی ہے ۔براہ راست ہدف بناکرقتل ،دوران حراست اذیت رسانی سے قتل ،مسخ لاشیں پھینکنے کاسلسلہ گذشتہ دو عشروں سے جاری تھاکہ اس سال سی ٹی ڈی کے ذریعے جعلی مقابلوں کااضافہ کردیا گیا۔ فوج نے زیرحراست افراد کو قتل کرکے انہیں سی ٹی ڈی کے ساتھ مقابلے کانام دیا لیکن جلد ہی حقائق سامنے آنا شروع ہوئے کیونکہ جبری لاپتہ افراد کے خاندانوں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے جمع کردہ کوائف ثبوت کے طور پر موجود تھے۔ یہ بربریت پوری طرح عیاں ہوگئی کہ فوج زیرحراست افرادہی کوقتل کررہی ہے ۔یہ سلسلہ جاری تھاکہ فوج نے ایک نئے سلسلے کاآغازکرکے زیرحراست افرادکواپنی سرحدی بندوست سے نکال کردوسرے ملک میں قتل کردیا۔
بی این ایم کے ترجمان نے کہاکہ گزشتہ روز مندسے متصل ایران کے زیرانتظام مغربی بلوچستان کے ضلع ھنگ میں پاکستانی فوج نے تین زیرحراست افرادکوگولیاں مارکرقتل کرکے چلی گئی لیکن ان میں ایک شخص معجزانہ طورپربچ گیا۔بلوچستان بھرمیں پاکستانی فوج نے منشیات فروش اورجرائم پیشہ افرادپرمشتمل کرایہ کے قاتلوں کے جھتے بنائے ہیں جنہیں ڈیتھ سکواڈکہاجاتاہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ پاکستانی فوج نے ان زیرحراست افرادکوانہی ڈیتھ سکواڈکےذریعے مغربی بلوچستان کے سرزمین پرقتل کیاگیاہےکیونکہ گزشتہ کچھ عرصے پاکستانی ریاست یہ پروپیگنڈہ کررہی ہے کہ پاکستانی فورسزکے ہاتھوں جبری لاپتہ افرادان کے قیدخانوں میں نہیں بلکہ ملک سے باہریاپہاڑوں میں ریاست کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں۔ اپنی اس بیانئے کوقابل قبول بنانے کے لیے ایک طرف سی ٹی ڈی کے نام پر زیرحراست افرادکوقتل کرکے لاشیں پھینک رہی ہے اوراب ملک سے باہرہونے کی دعوے کو صداقت بخشنے کے لیے پاکستان نے بین الاقوامی سرحدی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین زیر حراست بلوچوں کو ایرانی سرحد میں تیس چالیس کلومیٹر مغربی بلوچستان میں لاکر شہید کیالیکن اس سے پاکستان اپنے جنگی جرائم کوچھپانہیں سکتاہے بلکہ ہمسایہ ممالک سمیت پوری دنیاکے سامنے پاکستان کامکروہ چہرہ مزیدعیاں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مغربی بلوچستان میں جن زیرحراست افرادکوگولیاں ماری گئیں ان اسد ولد ناصر سکنہ نوکیں کہن مند، یکم جولائی 2019 کو گھر سے گرفتاری کے بعد جبری لاپتہ کیا گیا۔ شہید اسد بلوچ کے چھوٹے بھائی یاسر بلوچ کو 14 اکتوبر 2010 کو جبری لاپتہ کرنے کے بعد 8 مارچ 2011 کو اسے شہید کرکے لاش ویرانے میں پھینکی گئی تھی۔ شہید اسد بلوچ اور زخمی خان محمد شاہوانی کی جبری گمشدگی کے خلاف میڈیا کمپئین، اس کے بچوں کے اس وقت کے ریکارڈ شدہ اپیلیں ثبوت کے طور پر موجود ہیں کہ وہ پاکستانی فوج کے ٹارچر سیلوں میں تھے۔ ان کی گمشدگی کے بعد ان کی تصاویر جبری لاپتہ افراد کی کیمپ میں موجود رہے۔
انہوں نے کہا کہ خان محمدولدمیرجمعہ خان شاہوانی کو 17 جون 2019 کوخضدار کے علاقے زہری سے لیویزفورس نے گرفتارکرکے فوج کے حوالے کیاتھا۔زندہ بچ جانے والے خان محمدشاہوانی کوحراست میں لیے جانے کے عینی شاہدین آج بھی موجودہیں کہ گرفتاری کے وقت خان محمدشاہوانی نے کہاتھااگرانہیں فوج کے حوالے کیاگیاتوفوج مجھے لاپتہ یاقتل کرے گی لیکن لیویز فورس نے پاکستانی ریاست کے ساتھ نمک حلالی کاحق اداکرکے انھیں فوج کے حوالے کیاتھا ۔
ترجمان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ خان محمد شاہوانی کی زندگی بچانے اور اس کا بیان قلمبند کروانے میں بلوچ قوم کی مدد کریں۔ ہمیں خدشہ ہے ریاست پاکستان اسے شہید ناصر ڈگارزئی کی طرح ایک دفعہ پھر اٹھاکر شہید کر دیگی تاکہ وہ پاکستان کی اس سفاکیت کو اپنی زبان سے بیان نہ کرپائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمسایہ ممالک ،عالمی طاقتوں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اسی طرح پاکستان کو کھلی چھوٹ دیکر بلوچ نسل کشی میں خاموشی اختیار کی تو بلوچستان میں انسانی المیہ مزیدشدت اختیارکرے گی اور پاکستانی فوج بنگلہ دیش سے بھی بدتر مظالم ڈھاکر بلوچ قوم کی نسل کشی ،اجتماعی سزامیں تمام حدودپارکرے گا۔