بلوچستان کو حق دو تحریک گوادرمیں دھرنے کی شکل میں آج 24ویں روز جاری ہے۔
بلوچستان کو حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمان نے دھرنے کے مطالبات میں تین لاپتہ طالب علموں کی بازیابی بھیکا اضافہ کردیا۔
مولانا ہدایت الرحمان نے گذشتہ روزدھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دھرنا ختم کرنے کیلئے ہر طرح سے دھمکایا جارہا ہے۔لیکن اگر ایک فرد بھی میرے ساتھ نہیں ہو گا تب بھی میں مطالبات پر عملدرآمد کے بغیر دھرنا ختم نہیں کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ گوادریونیورسٹی کے تین طالب علموں کو فورسز نے پہلے جبری لاپتہ کیا اورپھر سازش رچھی کہ ڈی سی آفس کے قریب ایک موٹر سائیکل برآمد ہوگئی ہے جس میں دھماکا خیزمواد نصب تھا اور دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھااب ہمارے مطالبات میں ان تینوں طالب علموں کی بازیابی بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عسکری اسٹیبلشمنٹ دھرنا کے خاتمے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے اسی لئے ہم نے دھرنے میں شامل لوگوں کی حفاظت کیلئے دھرنے کی سیکورٹی سخت کردی ہے اور موٹر سائیکلوں اور گاڈیوں کی پارکنگ شناخت کا سسٹم بنایا ہے۔
واضع رہے کہ2 دسمبر کو گوادر یونیورسٹی کے مذکورہ طالب علموں کو پاکستانی اہلکاروں نے یونیورسٹی کے ہاسٹل میں چھاپہ مار کر گرفتار کیا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق تینوں طلباء پر شدید تشدد کیا گیا اور ان کی آنکھوں پر پٹی ڈال کر انھیں حراست میں لینے کے بعد اپنے ساتھ لے جایا گیا تب سے تینوں نوجوانوں کے بارے میں ان کے اہل خانہ کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔
گوادر یونیورسٹی ہاسٹل سے جبری طور پرلاپتہ کئے گئے طالب علم رمیز اختر سکنہ پیشوکان ضلع گوادر، جمیل صادق سکنہ آسیاباد تمپ ضلع کیچ اور پذیر سکنہ کراچی کواب پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا گیا ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان تینوں طالب علموں پر جھوٹے مقدمات قائم کیے جائیں گے۔