مقبوضہ بلوچستان کے کٹھ پتلی مشیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان حکومت نے حق دو تحریک کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے ہیں۔مولانا ہدایت الرحمان یہاں کے لوگوں پر رحم کرکے 20 دنوں سے جاری دھرنا ختم کریں۔
انہوں نے کہا کہبلوچستان حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزاکرات کے چار راؤنڈ مکمل کرلئے ہیں۔ ہم نے نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ مظاہرین سے مذاکرات کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حق دو تحریک کے مطالبے کے پیش نظر ہم نے ٹرالرز مافیا کے خلاف اپنی کارروائی جاری کئیے ہیں اس سلسلے میں غیر قانونی ٹرالنگ میں مصروف کئی ٹرالرز دھر لئیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طویل عرصے سے جاری ٹرالرز مافیا سے نمٹنے اور ان کو ختم کرنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ڈی جی فشریز ٹرالر کے خلاف آپریشن کررہے ہیں پاکستان نیوی اور ایم ایس اے کو بھی آپریشن کے متعلق کہا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ باڈر وفاقی ایشو ہے وفاق اس پر کام ہورہاہے اشیائے خورد و نوش پر تجارت آسانی سے جاری ہیں بارڈر پر آسانی سے ٹریڈ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گوادر یونیوسٹی کا قیام بھی عمل میں لایا جاچکا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پانچ ہراز پولیس اہلکاروں کو گوادر بجھوانے کا فیصلہ گوادر کے امن و امان کو برقرار رکھنے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت گوادر میں جاری حق دو تحریک کے دھرنا کو طاقت کے زریعے ختم کروانے کے حق میں شروع سے نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس کی بھاری نفری دھرنے کے شرکاء اور سرکاری املاک کی حفاظت کے لئے بجھوائی گئی ہے تاکہ دھرنا کو ہائی جیک نہ کیا جاسکے۔
مشیر داخلہ داخلہ ضیااللہ لانگو کا کہنا تھا کہ گوادر کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے سیکورٹی بڑھانے کا پلان کیا ہے تاکہ پْرامن دھرنے کو کوئی شرپسند خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ دھرنے سے متعلق گوادر کے عوام خود فیصلہ کریں حکومت چاہتی ہے معاملہ ٹیبل پر حل ہو۔
انہوں نے کہا کہ مولانا سے ملاقات کرکے آیا ہوں کہ مطالبات تسلیم کرنے کے بعد دھرنے سے متعلق نظر ثانی کریں۔
اس موقع پر کمشنر مکران عرفان شاہ غرشین، ڈپٹی کمشنر گوادر ریٹائرڈ کیپٹن جمیل احمد بلوچ، ڈی آئی جی مکران، جاوید جسکانی، ایس ایس پی طارق مستوئی اور ڈی جی فشریز طارق الرحمان بھی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں موجود تھے۔
دوسری جانب کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی زیرصدارت امن وامان کی صورتحال کا اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
چیف سیکریٹری مطہر نیاز رانا آئی جی پولیس رائے محمد طاہر،ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ ارشد مجید کمشنر مکران شاہ عرفان غرشین ڈی آئی جی سپیشل برانچ،ڈی سی گوادر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
آئی جی پولیس نے اجلاس کو بلوچستان میں امن امان کی مجموعی صورتحال جبکہ کمشنر مکران نے گوادر دھرنے سے متعلق صورتحال پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں بلوچستان میں امن وامان کی مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
اجلا س کو آگاہ کیا گیا کہ گوادر تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمان کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے گئے ہیں۔ حکومت نے دیگر آپشن ہونے کے باوجود صبر تحمل کے ساتھ دھرنے کے شرکاء سے مزاکرات کا عمل جاری رکھاہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہبلوچستان کے وزراء اور اعلیٰ حکام نے گوادر دھرنے کے شرکاء کے ساتھ مزاکرات کے چار راؤنڈ کی اور مزاکرات میں طے پا ئے گئے امور پر عملدرآمد کا سلسلہ شروع ہے۔
محکمہ ماہی گیری نے کوسٹ گارڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے غیر قانونی ٹرالنگ کے خلاف موثر اقدامات کی ہیں اور غیر قانونی ٹرالنگ کا بہت حد تک سد باب کیا ہے اور اس میں ملوث افراد کو قید و جرمانے کی سزائیں دی جارہی ہیں۔
اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز سے باہمی اعتماد کی فضا میں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے تاہم دھرنے کے مطالبات میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ مناسب عمل نہیں ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قدوس بزنجو نے کہا کہ حکومت کی کوشش اور خواہش ہے کہ تمام امور کو باہمی اتفاق رائے سے حل کر لیا جائے۔مزاکرات کے لئے حکومت کے دروازے ہر کسی کے لئے کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گوادر دھرنے سے ہٹ کر بھی حکومت کی اپنی پالیسی اور وژن کے مطابق گوادر کے پانی اور بجلی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جارہا ہے گزشتہ دنوں تربت میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بارڈر ٹریڈ کھولنے کے لئے تمام امور طے پا گئی ہیں جن پر جلد عملدرآمد کا آغاز ہونے جا رہا ہے اور اسکا فائدہ تربت گوادر پنجگور اور واشک کے عوام کو پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ بیروزگاری تمام مسائل کی جڑ ہے اگر اس مسئلہ کو حل نہ کیا گیا تو ملک دشمن بیروزگار لوگوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتے ہیں اس بات کے پیش نظر سرحدی علاقوں کے عوام کو تجارت کرنے کی خصوصی سہولت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے لوگوں کے روزگار کا ہر صورت تحفظ کرینگے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ بلوچستان کے 12 ناٹیکل میل کے سمندری حدود میں غیر قانونی ٹرالنگ کی مکمل روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔
قدوس بزنجو نے کہا کہ سی پیک میں بلوچستان بالخصوص گوادر کے منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد یقینی بنائیں گے اور ساؤتھ بلوچستان پیکج پر عملدرآمد سے بھی مکران میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی خواہشات کے احترام میں شاہراہوں پر غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کیا گیا ہے جبکہ عوام کی عزت نفس اور احترام کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
قدوس بزنجو نے کہا کہ امن وامان کے قیام کے لئے فورسز کی کاوشیں قابل ستائیش ہیں جن سے امن کا قیام ممکن ہوا ہے۔