تربت سول سوسائٹی نے گوادر میں بلوچستان بھر سے اضافی پولیس طلب کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایک جانب مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی قیادت میں عوامی ایشوز کو لے کر دھرنا دیا جارہا اور اس پہ حکومت مزاکرات کررہی ہے تو دوسری طرف 6 ہزار کے قریب پولیس اہلکاروں کو بلوچستان بھر سے گوادر تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت عوام کے جمہوری حق احتجاج کو پولیس گردی اور طاقت کے استعمال سے دبانا چاہتی ہے مگر معلوم ہونا چاہیے کہ عوامی آواز کو بزور طاقت دبایا نہیں جاسکتا، مولانا ھدایت الرحمن بلوچ ایک فرد نہیں بلکہ مکران بھرکے عوام ان کے ساتھ ہیں، اگر گوادر دھرنے پر پولیس کو استعمال کرکے دھرنا منتشرکیاگیا۔
تو حالات مزید سنگینی کی طرف جا سکتے ہیں، حکمران ایک جانب مزاکرات کا ڈھونگ رچارہیہیں اور دوسری جانب گوادر شہر میں اضافی پولیس طلب کرنے سے یہ بات واضح ہے کہ حکمرانوں کی نیت میں فتورہے اور وہ طاقت کا استعمال کرکے ماضی کی غلطیاں دہرانا چاہتی ہیں، تربت پریس کلب مطالبہ کرتاہے کہ حکومت گوادر دھرنا پر سنجیدہ ہو اور مولانا ھدایت الرحمن بلوچ کے عوامی و آئینی مطالبات پر فوراً عملدرآمد کرکے امن وامان کو سبوتاڑ نہ کرے۔