حکومت گوادر دھرنے کو پولیس گردی سے دبانا چاہتی ہے،تربت سول سوسائٹی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

تربت سول سوسائٹی نے گوادر میں بلوچستان بھر سے اضافی پولیس طلب کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایک جانب مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی قیادت میں عوامی ایشوز کو لے کر دھرنا دیا جارہا اور اس پہ حکومت مزاکرات کررہی ہے تو دوسری طرف 6 ہزار کے قریب پولیس اہلکاروں کو بلوچستان بھر سے گوادر تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت عوام کے جمہوری حق احتجاج کو پولیس گردی اور طاقت کے استعمال سے دبانا چاہتی ہے مگر معلوم ہونا چاہیے کہ عوامی آواز کو بزور طاقت دبایا نہیں جاسکتا، مولانا ھدایت الرحمن بلوچ ایک فرد نہیں بلکہ مکران بھرکے عوام ان کے ساتھ ہیں، اگر گوادر دھرنے پر پولیس کو استعمال کرکے دھرنا منتشرکیاگیا۔

تو حالات مزید سنگینی کی طرف جا سکتے ہیں، حکمران ایک جانب مزاکرات کا ڈھونگ رچارہیہیں اور دوسری جانب گوادر شہر میں اضافی پولیس طلب کرنے سے یہ بات واضح ہے کہ حکمرانوں کی نیت میں فتورہے اور وہ طاقت کا استعمال کرکے ماضی کی غلطیاں دہرانا چاہتی ہیں، تربت پریس کلب مطالبہ کرتاہے کہ حکومت گوادر دھرنا پر سنجیدہ ہو اور مولانا ھدایت الرحمن بلوچ کے عوامی و آئینی مطالبات پر فوراً عملدرآمد کرکے امن وامان کو سبوتاڑ نہ کرے۔

Share This Article
Leave a Comment