گوادر کو حق دو تحریک کا وائی چوک پورٹ روڈ پر دھرنا گیارہویں روز بھی جاری رہا جبکہ گوادر کو حق دو تحریک کے مطالبات کے حق میں مکران کے تینوں اضلاع میں مکمل طورپر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
گوادر شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی وجہ سے تمام کاروباری مراکز کے علاوہ مالیاتی ادارے مکمل طورپر بند رہے۔
گوادر شہر کے علاوہ پشکان اور سربندن میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ تاہم گوادر کو حق دو تحریک کے احتجاجی دھرنے میں مختلف علاقوں سے قافلوں کی آمد کا سلسلہ بھء جاری رہا۔
بلیدہ، زمران، اورماڑہ اور پسنی سے مختلف شعبہ سے وابستہ افراد نے احتجاجی دھرنے میں شرکت کرکے گوادر کو حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے گوادر کو حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ ہماری تحریک اور یہ تاریخی دھرنا مقاصد کے حصول کے لئے جاری ہے گزشتہ روز صوبائی حکومت کی توسط سے ہمیں یہ باور کرایا گیا ہے کہ گوادر کو حق دو تحریک کے بنیادی مطالبات پورے کئے جائینگے۔اس حوالے سے مختلف نوٹیفکیشن بھی ہمارے حوالے کئے گئے ہیں لیکن ہم واضح طورپر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کاغذ کے چند ٹکڑوں پر ہمیں اعتبار نہیں ہم عملی اقدامات چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو مطالبات پر عمل درآمد کے لئے تین دن دیئے گئے ہیں دیکھتے ہیں کہ ہم سے جو وعدے کئے گئے ہیں اس پر پیش رفت کو یقینی بنایا جاتا ہے یا روایتی تساہل پسندی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اگر تساہل پسندی کی گئی تو یہ احتجاج اور رخ اختیار کرے گی۔
مولانا ہدایت الرحمن نے مکران بھر میں تحریک کے حق میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے پر انجمن تاجران کا شکریہ اداکیا۔
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین مولانا عبدالغنی زعفرانی نے کہا کہ ظلم اور زیادتیوں کے خلاف صدا بلند کرنا فرض ہے۔ گوادر سے شروع ہونے والی یہ تحریک بلوچستان کے محرومیوں کے شکار عوام کی دل کی آواز بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہاں ہم نے قابض گورے انگریزوں کو بھگایا اب ان کی جگہ کالے انگریزوں نے لی ہے یہ بھی عوامی تحریک کے سامنے ٹھک نہیں سکتے۔
انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے یہاں پر نہ جمہوریت اور نہ ہی اسلامی نظام ملک متوازی نظام کی لپیٹ میں ہے یہاں پر حق بات کرنا جرم بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکران کے چھپے چھپے پر چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں حتی کہ سرکاری اسکولوں کے قریب بھی چیک پوسٹیں قائم ہیں کہاں سے آرہے ہو کہاں جارہے ہو جیسے سوالات نے پوچھ کر عزت نفس کو مجروح کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کا کام عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہے ناکہ ان کو پریشان کرنا۔ گزشتہ دنوں سخت سیکورٹی میں گرا یونیورسٹی بلوچستان سے دو طالب علموں کو اغواکیا گیا جن کو زمین کھا گئی یا آسمان اب تک حکومت تسلی بخش جواب دینے سے قاصر نہیں۔ دوسری طرف ہمارے بلوچ صوبائی اسمبلی کے ممبران کالے چشمے اور کالے کوٹ پہن پہن کر ان کے دل بھی کالے ہوگئے ہیں اور لاچار عوام زیر عتاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم انڈیا کے ایجنٹ نہیں ظلم کا شکار ہیں۔ پر عزم نوجوانوں نے اور بزرگوں یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ ظلم پر مبنی نظام برداشت نہیں بلکہ اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہینگے۔ حکومت لوگوں کو با عزت روزگار کی فراہمی اور عزت نفس کے ساتھ جینے کو یقینی بنائے۔
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے انجمن تاجران کیچ کے صدر حاجی کریم بخش نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں شروع ہونے والی یہ تحریک مکران کی آواز بن گئی ہے۔ مولانا کا شکریہ کہ انہوں نے سوئی قوم کو جھگایا۔
انہوں نے کہا کہ گوادر کو حق دو تحریک کے مطالبات غیر آئینی اور غیر قانونی نہیں انجمن تاجران کیچ گوادر کو حق دو تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے۔
دھرنے سے چاغی کے رہائشی سید افضل عباس، پسنی کے کہدہ عبدالرشید، تربت کے ملا عقیل احمد، زعمران کے محمد شریف، ذاکر عکیم، گہرام کریم مری، شکیل کے ڈی اور شریف میانداد نے بھی خطاب کیا۔