ریاستی فورسز ایک نئے پالیسی کے تحت بلوچ طلبا کو تعلیمی اداروں سے لاپتہ کر رہی ہے،کمال بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بی ایس او آزاد کے سابقہ وائس چیئرمین کمال بلوچ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ بلوچستان کے تمام مسائل سے دنیا باخبر ہے،بلوچ قوم ہزاروں مشکلات کا سامنا کررہی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں بلوچستان میں پاکستان کے ظلم و جبر شدت کے ساتھ جاری ہیں جن میں بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگی، شہید کرنا، مسخ لاشوں کو ویرانوں میں پھینک دینے اور چادر چاردیواری کی پامالی شامل ہیں۔ آج ریاستی فورسز ایک نئے پالیسی کے ذریعے بلوچ طلباء کو یونیورسٹی،کالج اور ہاسٹلوں سے رات کی تاریکی میں گھس کر گرفتار کررہی ہیں حتی کہ اسکول کے بچوں کو بھی معاف نہیں کیاجارہا ہے۔

کمال بلوچ نے کہا ہے کہ اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟کیوں پاکستان بلوچ قوم کے خلاف یہ عمل دہرارہا ہے،یہ سمجھنا آسان ہے کیونکہ بلوچ اور پاکستان کا رشتہ اب واضح ہو چکا ہے،پاکستان نیہر دور میں بلوچ قوم کی نسل کشی کی ہے اور بلوچ دانشوروں سمیت علما،اساتذہ اورطلباء کو بھی لاپتہ کررہے ہیں۔ یہ عمل بلوچ قوم کے ساتھ قیام پاکستان سے لے کر تا حال جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں بلوچستان یونیورسٹی اور خضدار یونیورسٹی سمیت پورے بلوچستان سے بلوچ نوجوانوں اور طلباء کو لاپتہ کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا ہمیں اور ہمارے تمام با شعور طبقہ کو ان وجوہات سے آگاہ ہونا چاہیے وہ نوجوان جو شعور رکھتے ہیں،ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ریاست ایک بار پھر ایک خوف کا ماحول پیدا کرنے کی تگ و دو کررہی ہے تاکہ بلوچ نوجوان خوف کے شکار رہیں اور ریاست کے خلاف ایسے ردعمل کا مظاہرہ نہ کریں جو ریاست کی شرمندگی کا باعث بنیں لیکن یہ ریاست کی بھول ہے، اب ایسے خوف کے ماحول سے لوگ نہیں ڈرتے ہیں، ڈر اور خوف قوموں کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔اب بلوچ طلباء اساتذہ کرام اور دیگر باشعور طبقہ خوفزدہ ہونے کی بجائے اپنے آپ کو اور اپنے اداروں کو منظم کریں اور اپنے تربیتی پروگراموں میں تیزی لائیں۔

Share This Article
Leave a Comment